ممتازملک ۔ پیرس

ممتازملک ۔ پیرس
تصانیف : ممتازملک

بدھ، 7 اگست، 2024

& وہ میرے قابل نہیں تھا۔۔۔۔۔افسانہ۔ قطرہ قطرہ زندگی

    
      وہ میرے قابل نہیں تھا 


سامیہ جانتی تھی کہ اس کا شوہر تھوڑا رنگین مزاج ہے ۔ لیکن بدکردار ہے، یہ وہ کبھی نہیں مان سکتی تھی . 
اسی بھروسے پر اس نے اس شادی کی حامی بھری تھی کہ ناصح اسے کبھی بیوفائی کا دکھ نہیں دے سکتا.
 اس کی اس کے لیئے دیوانگی ہی تو اسے عجیب سا سکون دیا کرتی تھی.

ایک حسین لڑکی دروازے پر ناصح کے پہلو میں کھڑی تھی..
اس سے پہلے کہ وہ اس سے کچھ پوچھتی،   وہ اسے لیکر گھر میں  داخل ہو گیا
کون ہے یہ لڑکی.. ؟
اس نے پریشانی سے سوال کیا
دوست ہے میری۔
ناصح نے اس لڑکی کو اپنی قریب کرتے ہوئے جواب دیا
دوست ؟
کیسی دوست؟
وہ اب حیران بھی ہو رہی تھی
میری محبوبہ ہے اب خوش۔۔
اس نے عجیب آدم بیزار انداز میں جواب دیا
اور میں ؟
میں کون ہوں؟
اس نے تڑپ کر سوال کیا 
ارے بھئی تم بیوی ہو جاؤ بیوی بنکر رہو. کیوں سر پر سوار ہو. دفع ہو جاؤ جا کر کھانا بناؤ.. جھاڑو لگاؤ  ٹوائلٹ صاف کرو . یہ میرے کپڑے اٹھاؤ . اچھی طرح سے صاف ہونے چاہیئیں. 
اس نے کپڑوں کو الکنی سے,  الماری سے کھینچ کھینچ کر نکالا اور گولا بنا کر اس کی طرف اچھال دیا .
ناصح نے اسے کمرے سے باہر دکھیلتے ہوئے دروازے کی چٹخنی چڑھا لی۔
وہ ہکا بکا سی فرش پر گری دروازے کو دیکھ رہی تھی۔
اسکے سوچنے سمجھنے کی حس جواب دے چکی تھی۔
کمرے سے ان دونوں کی بے ہنگم ہنسی، سرگوشیوں کیساتھ اٹھخ پٹخ کی آوازیں آ رہی تھی۔ 
اسے ناصح کے وجود سے تصور سے ہی گھن آنے لگی۔۔
صدمے  کی ایک لہر اس کے رگ و پے میں دوڑ رہی تھی۔ تو بے عزتی کا احساس اس کو مارے جا رہا تھا
یا اللہ میں  کیا کروں .
یہاں کھڑی رہوں, یا اس گھر پر، اس شخص پر تھوک کر کہیں بھاگ جاؤں..
 اسے مار ڈالوں یا اپنے گلے میں پھندا لگا کر جُھول جاؤں ؟؟؟؟
وہ رونا چاہتی تھی مگر آنسو شاید اس کی آنکھ کا راستہ بھول چکے تھے...
اس شخص کی محبت پر تو نے  اپنے سارے سچے رشتے قربان کر دیئے تھے. اندر سے کوئی آواز آئی..
پھر تو یہ روز کا معمول بن گیا۔
اس کا رونا دھونا احتجاج جھگڑا سب بے سود ہو چکا تھا۔ 
پھر اس نے اپنا دھیان رکھنا چھوڑ دیا. خاموشی کی موٹی چادر اوڑھ لی.اس نے خود کو ایک گونگی مشین بنا لیا.  اپنی زندگی سے نہ کا لفظ کھرج کر پھینک دیا.
اس نے اپنے ہر انسانی جذبے اور احساس کی نفی کرنے کی ٹھان لی.
سب کی پلیٹوں سے بچے دوچار لقمے اسکی خوراک بن گئے.  نیا کپڑا اس نے خود پر حرام کر لیا.
کسی ہنسی کی بات پر اس کے کان بہرے ہو جاتے.
یہ سزا دی اس نے خود کو ناصح جیسے بےفیض اور بیوفا شخص سے محبت کرنے کی دی .  اس جیسے بے قدر اور گھٹیا کردار سے وفاداری نبھانے اور اپنی پاکیزہ محبت کی تذلیل کی..
اس روز وہ دربار پر سلام سے واپسی پر اپنا نام مانوس آواز میں سنکر چونک گئی۔
اس نے مڑ کر دیکھا 
اسکا خالہ زاد روف اسے حیرت سے تک رہا تھا۔
روف۔۔۔۔
 اس کے منہ سے بے اختیار نکلا 
تم یہاں ۔۔
ہاں میں اپنے کام سے یہاں ایک دفتر میں آیا تھا ۔ سوچا دربار پر سلام کر لوں ۔ لیکن تمہیں کیا ہوا؟
تمہیں تو میں پہچان ہی نہیں پایا اندازے سے ہی تمہیں آواز دی تھی ۔ 
اس کی آنکھیں تھیں یا خشک گہرا کنواں.
وہ اس میں زیادہ دیر جھانک بھی نہ سکا. .
آج پورے پانچ سال بعد وہ اپنی خالہ زاد کو دیکھ رہا تھا ۔
جس کا نام تک گھر والے بھول چکے تھے۔
 اس کی حالت دیکھ کر دل صدمے سے چور ہو گیا۔
 یہ تم نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے جس کے ساتھ آئی تھی جب اسے میری پرواہ نہیں تو میں اپنی حالت کی کیا پرواہ کروں گی۔ کس کے لیئے جیئوں۔
 اس نے اپنا سارا قصہ کھول کر بیان کر دیا ۔
 وقوف لڑکی تمہارے شوہر نے تمہارے ساتھ دشمنی کی۔  بے وفائی کی اور اس کا بدلہ اس سے لینے کے بجائے تم نے اپنے آپ سے لیا۔ خود کو تباہ کر لیا۔ برباد کر لیا بے۔
 بیوقوف لڑکی اس بدبخت کو اس سے کیا فرق پڑے گا وہ جگہ جگہ منہ مارتا پھرتا ہے اور تم یوں ماتم کر سجائے بیٹھی ہو ۔
اسے ایسی سزا دو کہ وہ ہی نہیں اس جیسے اور کم ظرف بھی یاد رکھیں۔جہاں سے گزرے تمہارا نام لے کر اپنا گناہ تسلیم کرے۔
کیسے۔۔ کیسے میں یہ سب کر سکتی ہوں ۔
میں کیا کر سکتی ہوں۔ میں نے تو اپنے گھر والے اپنے بہن بھائی سب کو اپنے خلاف کر لیا اس سے ایک بے وقعت انسان کے لیئے۔
وہ مایوسی سے آنسو پونچھتے ہوئے بولی
کر سکتی ہو۔ کیوں نہیں کر سکتی تمہاری شادی کا فیصلہ تمہارا حق تھا ٹھیک ہے انسان سے غلطی ہوتی ہے۔ تمہارا چناؤ بھی اچھا ثابت نہیں ہوا۔ تمہارے نصیب کی چوٹ بن گیا ۔  لیکن اب اگر وہ دشمنی پہ اترا ہے تو اسے بہترین دشمنی کر کے دکھاؤ تاکہ اور بھی دیکھنے والوں کو عبرت ہو وہ کیسے؟
 اس نے حیرت سے اسے دیکھا
 ایک بات یاد رکھو دشمن کو چوٹ پہنچانی ہو تو خود کو دکھی کر کے نہیں۔ اس سے تو دشمن خوش ہوتا ہے اسے چوٹ پہنچانی ہے تو خود خوش رہ کر کامیاب ہو کر پہنچاو۔
 کہتے ہیں نا کہ دشمن کے کلیجے پر مونگ دلنی ہے تو خوش رہو اور کامیاب رہ کر دکھاؤ 
تو میں کیا کروں میرا خوش ہونے کو جی نہیں چاہتا۔
 تو اس جی کو انسان کا بچہ بناؤ نا۔ اس جی نے تو تمہیں اس حالت تک پہنچایا ہے۔
 اس نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
 اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہو تو اپنی شرطوں پر رہو۔
 نہیں رہنا چاہتی ہو تو بھی اپنی شرطوں پہ اسے چھوڑو۔
 میں کہاں جاؤں گی؟
 کیا مطلب میں کہاں  جاؤں؟
 دنیا ایک آدمی پر ختم تو نہیں ہو جاتی ۔ جیسے وہ دوسری عورتیں لا کر یہاں پر غلط کام کر سکتا ہے تو تم کیا جائز کام نہیں کر سکتی۔
 چھوڑ دو اسے۔ کسی اچھے انسان کا ہاتھ تھامو جو تمہیں عزت دے۔ محبت اور خلوص کے ساتھ تمہارے ساتھ زندگی گزارے۔
 ایسے گندے آدمی کی زندگی سے نکل کر کون مجھے اپنائے گا ۔
میرے تو گھر والے بھی مجھے دیکھنا پسند نہیں کریں گے۔
 ارے تم جاؤ تو سہی۔ تمہارت اپنے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ برا بھلا کہیں گے۔  زیادہ سے زیادہ کوس لیں گے تمہیں۔۔ اور کیا کہیں گے  اس سے زیادہ ۔
والدین کے گھروں کے دروازے ایسے بند نہیں ہوا کرتے اور دل کا دروازہ تو کبھی بند نہیں ہوتا ۔
ایک معافی سے تو خدا بھی راضی ہو جاتا ہے تو کیا وہ راضی نہیں ہوں گے۔ جاؤ انہیں پھر سے اپنا لو۔
 اپنی زندگی کو نئے سرے سے شروع کرو 
اس کی باتیں اس کے دل پر مرہم کا سا اثر کر رہی تھیں ۔
 اس نے سوچا 
واقعی شیشے میں دیکھا میں نے پانچ سال میں خود کو 50 سال کا کر لیا اور وہ ہٹا کٹا منہ پر لالیاں بکھیرے ہر روز ایک نئی لڑکی کو پھانس کر لاتا ہے۔
 اسے کیا فرق پڑا پانچ سال کا میرا صبر اس کو نظر ہی نہیں آیا۔
میں مفت کی نوکرانی ہوں اس کے لیئے ۔
میں ہوں کیا ؟
 روف کی باتوں نے اسے جینے کی ایک نئی راہ دکھائی ۔
اس نے خود کو آئینے میں دیکھا۔ اپنے رویے پر غور کیا اور پھر ایک فیصلہ کر لیا ۔
اپنے دو جوڑے بیگ میں رکھے۔ ایک مختصر سا خط  ناصح کے نام لکھا کہ بس اب میں اور تم اجنبی ہیں۔ چاہو تو عدالت چلے جاؤ ۔ چاہو تو عزت سے اس معاملے کو یہیں ختم کر دو ۔ مجھے طلاق دیدو ۔
اب میں تمہیں ہر جگہ تمہارے مقابلے پر کھڑی دکھائی دوں گی۔
 وہ  خط پڑھکر حیران ہو گیا
 یہ نیا سبق کس نے پڑھایا ہے ۔ یہ راستہ کس نے دکھایا۔۔ یہ اتنی بہادر کب سے ہو گئی؟ کس سے ملتی ہے؟  کون آتا ہے اور یوں وہ عورت جو کل تک عزت کا لفظ بھول چکی تھی آج اس کے سامنے کیسے کھڑی ہو سکتی ہے۔
 سامیہ نے اپنے والدین سے مل کر معافی تلافی کی۔
 اس آدمی کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ سب نے اس کی بات کی حمایت کی جو پہلے سے اسے پسند نہیں کرتے تھے۔
 لیکن محبت کی پٹی انکھوں سے اتر چکی تھی اور اب وہ خود یہ فیصلہ کرنا چاہتی تھی۔  جس بوجھ کو سر سے اتار پھینکے ۔
اناصح کو اندازہ ہو چکا تھا کہ عدالت میں رل کے صرف وہ اپنا پیسہ ہر وقت ہی برباد کرے گا۔
 اس نے کوشش کی کہ کسی طرح اسے واپس بلا سکے لیکن اب وہ ٹھان چکی تھی کہ پانی بہت بہہ چکا ان پلوں کے نیچے سے۔
 سو اس نے طلاق نامہ اسے بھجوا دیا یوں یہ بھاری پتھر بھی اس کے کلیجے سے اتر گیا۔
 اس کی ماں نے اس کی ہمت بندھائی۔  زندگی کی طرف واپس آنے میں ،  گھر والوں کی عزت اور محبت نے اہم کردار ادا کیا ۔ 
 سانس لینے کا حوصلہ ہوا اس کی خوراک کا خیال رکھا گیا۔ صحت کچھ بہتر ہوئی۔ دل کو حوصلہ ملا تو پھر سے پرانی سامیہ دنیا کو دکھائی دینے لگی۔
 اس نے گھر کے نزدیک ایک فیکٹری میں کپڑوں کی کٹنگ کا کام سیکھنا شروع کیا ۔ سال بھر کا کورس کرنے   کے بعد اب وہ بہترین انداز میں اپنا کام کر رہی تھی۔ 
اسکی پہلی تنخواہ  جو اسکے ہاتھ پر ائی تو اسے لگا وہ پھر سے جی اٹھی۔ یہ اس کی کمائی تھی۔
 اس کی حق حلال کی کمائی۔ اس میں سے کچھ خرچ کرنے کے لیئے اسے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی۔
 وہ اب کسی کی بھیک نہیں کھائے گی  ۔
اس نے اس پیسے کا ایک حصہ اپنی ماں کے ہاتھ پہ رکھا ۔
ماں نے اسے دیکھا 
یہ کیا یہ میرے حصے کا خرچ ہے جو   آپ اس گھر کے خرچ میں ڈالیں۔
 لیکن بیٹا ہم  تو تم سے نہیں مانگ رہے ۔
 آپ نہ بھی مانگیں ہر انسان کو اپنی زندگی کا بوجھ خود اٹھانا چاہئیے۔ میں جو کچھ کر چکی ہوں اس میں اپنی  زندگی کے پانچ سال گنوا دیئے ۔
یہ سمجھنے کے لیے کہ پہلے مجھے معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑے ہونا چاہیئے تھا۔
کچھ کمانا چاہیئے تھا۔
 کمانے والی عورت بات کرنے کی ہمت بھی رکھتی ہے اور فیصلہ کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے۔
کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اس کا رشتہ سامنے والے کے ساتھ دو روٹی کا نہیں بلکہ عزت کا ہے اور اسے عزت ملتی بھی ہے ۔
میں یہاں آپ کے ساتھ رہوں گی لیکن آپ کو میرے حصے کا خرچ مجھ سے خاموشی سے لینا ہوگا۔
ماں نے کچھ سوچا مسکرا کر وہ پیسے رکھ لیئے ۔
وہ زندگی کی  ڈگر پر رواں دواں ہو چکی تھی۔
 کہ روف اپنی ماں کے ساتھ ان کے گھر کچھ دنوں کے لیے ٹھہرنے کو آیا۔ سامیہ نے اس کا شکریہ ادا کیا  تمہاری وجہ سے میں اس دلدل سے نکل سکی ورنہ شاید اور سال بھر میں مٹی کے ساتھ مٹی ہو چکی ہوتی۔
 تمہارا شکریہ 
شکریہ کی کوئی بات نہیں ۔
تمہیں تکلیف میں دیکھا تو میرا فرض تھا کہ تمہیں حوصلہ دیتا۔
تم مجھے پہلے بھی اچھی لگتی تھی اور اب بھی۔
 ایک غلط فیصلے سے کسی کی زندگی ختم نہیں ہو جاتی یا اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ختم نہیں ہو جاتیں۔ میں اماں کو اسی لئیے ساتھ لایا ہوں۔
 اگر تمہاری رضامندی ہو تو میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔
 اگر تم ہاں کرو گی تب ہی میں امی کو خالہ سے بات کرنے کے لیے کہوں گا میں دو چار دن کے لیئے اپنے کام کے علاوہ اس کام سے بھی  تمہارے شہر میں آیا ہوں۔ 
 سوچا قسمت آزما لی جائے۔
سامیہ نے اسے بے یقینی سے دیکھتے ہوئے پوچھا
 کیا تم سنجیدہ ہو۔ 
 سو فیصد۔ اس میں غیر سنجیدہ ہونے کی کیا بات ہے؟
 تم جانتے ہو میری طلاق ہو چکی ہے۔ پھر تمہاری امی اس رشتے کے لیئے کیسے راضی ہوں گی؟
 وہ اس رشتے کے لیے تیار ہیں۔ وہ تمہیں پہلے بھی پسند کرتی تھی اور اب بھی تم سے بہت محبت کرتی ہیں۔  لیکن اس سے پہلے ہی تم نے جا کر شادی  کر لی۔
  ہم شاید تھوڑا لیٹ ہو گئے۔
 قسمت کو یہی منظور تھا کہ ہم اس طرح ملیں تو ہم اپنی اگلی زندگی کو بہت اچھا بنا سکتے ہیں ۔
دیکھو روف میں نے جو حالات دیکھے ہیں ۔میرا زندگی پر اعتبار اور اس شادی کے رشتے پر بہت ہی کمزور ہو گیا ہے۔
میں زندگی میں اب گھر بیٹھ کر ایک مفلوج زندگی نہیں گزار سکتی ۔
جھاڑو پونچھا کرنے والی ماسی کی زندگی نہیں گزار سکتی۔ میں گھر سے باہر اپنی مرضی سے جب تک چاہوں گی کام کروں گی اور جب دل نہیں کرے گا نہیں کروں گی ۔ میری تنخواہ میری مرضی میں جہاں چاہوں وہ خرچ کروں گی۔
 تم اپنا گھر اپنی تنخواہ پر چلا سکتے ہو ؟ 
میری جائز ضرورتوں کو پورا کر سکتے ہو ؟
 مجھے سانس لینے کا، فیصلہ کرنے کا اختیار دے سکتے ہو، مجھ سے وفادار رہ سکتے ہو، تو ٹھیک ہے مجھے تم سے شادی کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔
 روف نے مسکرا کر اسے دیکھا اور بولا جناب اعلی فکر مند کیجیئے۔
میں آپ سے یہی توقع کر رہا تھا اور اگر آپ یہ سب نہ کہتیں  تو پھر شاید میں کچھ اور سوچتا۔۔
 اس نے مسکرا کر دیکھا اور گھر سے باہر  نکل گیا
کہاں جا رہے ہو 
سامیہ نے اسے آواز دی
وہ مسکراتے ہوئے بولا
 بھئی مٹھائی تو لے آوں ۔۔۔
                     ۔۔۔۔۔۔۔۔


& بوجھ بانٹو۔ افسانہ۔ سچی کہانیاں ۔ قطرہ قطرہ زندگی


   
         بوجھ بانٹو


وقت بہت تیزی سے بدل رھا ہے وقت کے تقاضے بھی بدل رہے ہیں ۔ کل تک جو باتیں اتنی ضروری نہیں سمجھی جاتی تھیں آج وہ زندگی کی ضرورت بن چکی ہیں ۔ اس بات کو اب کم تعلیم یافتہ لوگوں نے بھی قبول کرنا شروع کر دیا ہے ۔ 
مثلا۔۔۔

 کل تک ہمارے ہاں جو خاتون بھی  گاڑی چلاتی تھی اسے بہت ہی آزاد خیال بلکہ ہاتھ سے نکلی ہوئ عورت سمجھا جاتا تھا ۔ زیادہ دور نہ جائیں بیس سال پیچھے چلتے ہیں ۔ کسی بھی لڑکی نے میٹرک کیا ،ہانڈی روٹی بنانے کے قابل ہوئ تو بہت بڑی بات تھی مناسب رشتے کیۓ اور لڑکی اپنے گھر کی ہوئ ۔اللہ اللہ خیرصلہ ۔لیکن پھر ماحول نے کروٹ لی ۔
میڈیا کا سیلاب آگیا ۔معلومات نے طوفان کی سی تیزی سے گھروں کا رخ کیا ۔ زندگی کا انداز بدلنے لگا ۔ خواہشوں نے نۓ رنگ ڈھنگ اپنانے شروع کیۓ ۔زندگی رو ٹی کپڑا اور مکان کے دائرے سے باہر نکل کر مقابلے کی دوڑ میں شامل ہو گئ ۔خوب سے خوب تر کی جستجو نے اسے اور بھی ہوا دی ۔ آج یہ بات پہلے سے بھی زیادہ ضروری لگنے لگی ہے کہ ہماری آدھی آبادی جو گھر بیٹھ کر یا تو آبادی بڑھاتی ہے یا پھر شام کو تھکے ہارے مردوں کے گھر آنے پر ان کے لیۓ مسائل بڑھانے کی وجہ بنتی ہے اس آدھی آبادی کو بھی اب قومی ترقی کے دھارے میں شامل کیا جاۓ ۔ نوجوانوں سے جب بھی میری ملاقات ہوتی ہے میرے مشاہدے اور تجربے کو ایک نئ راہ ملتی ہے ۔انہی نوجوانوں کی کہانیوں میں سے ایک کہانی آج آپ کے ساتھ بھی بانٹ رہی ہوں جس نے مجھے بھی بہت کچھ سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ ایک نوجوان لڑکی نے مجھے اپنے تجربے سے آگاہ کرتے ہوۓ بتایا کہ
،، میں بہت ہی زیادہ لاڈلی بھی تھی اور فضول خرچ بھی ۔ ہمارے بابا جان نے ہمیں ہر منہ مانگی چیز لا کر دی ، میرے لیۓ یہ بہت ہی آسان سی بات تھی کہ یہاں میں کوئ فرمائش کرتی ہوں وہاں وہ پوری ہو جاتی ہے اس لیۓ کسی چیز کے ملنے کے بعد کبھی تو میں اسے ریجیکٹ کر دیا کرتی تھی تو کبھی وہ مہنگی سے مہنگی چیز بھی کسی کو اٹھا کر دے دیا کرتی تھی ۔ پھر اتفاق سے ایک سال یونیورسٹی کے داخلوں کا ٹائم کسی وجہ سے لیٹ ہو گیا اور بروقت فارم نہ ملنے کی وجہ سے مجھے یونیوورسٹی کا وہ سال داخلہ نہ مل سکا تو میں نے بوریت سے بچنے لیۓ بابا جان کی دکان پر جانے کا فیصلہ کیا ،۔ بظاہر یہ ایک ٹائم پاس فیصلہ تھا مگر میں نہیں جانتی تھی کہ میرے اس فیصلے سے میری سوچ کا دھارا بدل جاۓ گا یا میری زندگی کا انداز بدل جاۓ گا ۔ صبح بابا جان کے ساتھ چھ بجے اٹھناتھا پھر ایک گھنٹے کے اندر دکان کا رخ کیا سارا دن باباجان کے ساتھ دکان کے کاؤنٹر پر کبھی، تو کبھی سامان لگانے کے لیۓ ریک سیٹ کرنے والے کی مدد کرنا، دکان پر آنے والے سامان کا حساب کتاب ، ساتھ ساتھ کسٹمر کو بھی  خریداری میں کسی بھی چیز ک لیئے گائیڈکرنا۔۔۔۔۔۔ ا اُفففففففففففففففففففففففففففففف
شام تک تو میری ہڈیاں بھی بجنے لگیں ۔ اس روز بابا جان نے مجھے میری دن بھر کی دیہاڑی کے پیسے [جو کہ ہمارے دوسرے ملازم کو بھی جتنے ملتے ہیں اس کے برابر تھے ] میرے ہاتھ پر رکھے تو یقین جانیۓ اس وقت جو میری حالت تھی میں اس خوشی کو بیان نہیں کر سکتی ۔یہ پیسے میری روز کے جیب خرچ کے دسویں حصے کے برابر بھی نہیں تھے ۔لیکن میرے لیۓ وہ پیسے کسی خزانے سے کم نہیں تھے اور اس سے بھی زیادہ وہ پیسے میرے لیۓ کتنے مقدس تھے جو میرے اپنے ہاتھ کی حلال کی کمائ تھے جنہیں دیکھ کر آج مجھے میرے بابا جان سے اور بھی زیادہ محبت اور عقیدت محسوس ہوئ اور ان کی اب تک کی ساری تھکن کوایک ہی پل میں میری رگ و پے نے بھی محسوس کر لیا ۫ ۔ اور اس کمائ کو خرچ کرنے کا خیال میرے لیۓ بلکل بھی اچھا نہیں تھا ۔ اور میں نے اس سے کچھ بھی خریدنے سے انکار کر دیا ۔ یہاں تک کہ باباجان نے اپنے پاس سے بھی کچھ خرید کر دینے کو کہا تو میں نے صاف انکار کر دیا کیوں کہ مجھے اس مشقت کا احساس ہو چکا تھا جو ان پیسوں کو کمانے کے لیۓ اٹھائ جاتی ہے وہ دن میری زندگی میں فضول خرچی کا آخری دن ثابت ہو ا ۔میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اگر ایک دن کے کام کا تجربہ جب مجھے اتنا کچھ سکھا سکتا ہے تو پھر مجھے ہر روز زندگی سے کچھ سیکھنا ہے ۔؛ آج میں پڑھ بھی رہی ہوں اور کام بھی کر رہی ہوں اپنے بابا کی کمائ کو ضائع کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی اور ہر کام کرنے والے کی عزت کرتی ہوں ۔ اور اپنے بہن بھائیوں کو بھی پیسہ سوچ سمجھ کر استعمال کرنے کا مشورہ دیتی ہوں ۔ ،،

دیکھاآپ نے ایک تجربہ آپ کی سوچ کو کہاں سے کہاں لے جاتا ہے ۔ یہ ہی تجربہ اب ہماری پوری قوم کو کرنے کی ضرورت ہے ۔
کیوں ہم عورتوں کو اپنی آدھی سے زیادہ آبادی کو بچے بم ب آنے اور فساد بونے کے لیئے گھریلو کاموں کے نام پر مخصوص کیئے رکھیں گے۔ 
تو۔کیا وہ۔منہ اٹھا کر صبح صبح مردوں کے ساتھ جا کر دھکے کھانا شروع کر دیں اس کی ماں نے غصے سے اس کی طرف گھورتے ہوئے دیکھا اور پوچھا
 ارے نہیں امی میرا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ ہر بندہ یہی کام کرے، لیکن  کچھ تو پریکٹیکل کرے۔
 اپنی پڑھائی کے لیے اور پھر ہانڈی روٹی اور چولہے کے علاوہ بھی،  یہ کام کوئی بھی کر سکتا ہے۔
 اور عورت اور مرد کی اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے جو فارغ ہے جس کا جی جا رہا ہے وہ بنا دیتا ہے ۔
باقی اس دنیا کے سسٹم کو چلانے کے لیے جن لوگوں کی ضرورت ہے اس میں عورت اور مرد کو دونوں کو برابر آگے بڑھنا ہوگا۔دونوں کو اللہ نے مختلف صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے ۔گھر میں بیٹھ کر بھی مختلف کام ہو سکتے ہیں۔ لیکن کچھ کرو تو سہی ۔۔۔

جب تک خواتین کام کاج کے میدان میں قدم نہیں رکھیں گی وہ کبھی بھی اپنے باپ بھائی ، شوہر یا بیٹے کی کمائی سے ہمدردی نہیں کر سکتیں ۔
کیا مطلب ؟
امی نے حیرت سے سوال داغا۔
دیکھیں نا امی ۔۔بہنوں کو شوق ہوتا ہے کہ سہیلیوں میں شو مارنے کے لیئے بھائیوں کے پیسوں کو زیادہ سے زیادہ کہاں کھپانا ہے ۔ 
ماں کو فکر ہوتی ہے کہ بیٹا بہت کما رہا ہے تو کیسے کیسے بیٹیوں کو بھرا جاۓ ۔
بیوی کو فکر ہوتی ہے کہ کیسے اپنے میاں کی کمائی میں سے اپنے میکے والوں کو موج کرائی جاۓ ۔
گویا قُربانی کا دُنبہ بنتا ہے وہ اکیلا کمانے والا مرد ۔
 یہ سب کیا ہے ؟
کوئی مانے نہ مانے لیکن 80 فیصد خواتین ہمارے معاشرے میں یہ ہی سب کچھ کر رہی ہیں۔
اب تمہیں کیا الہام ہوا ہے 80 فیصد کا ؟ جو دعوی کر رہی ہو۔۔۔
 آپ اپنی ملنے والیوں، رشتے دار عورتوں میں سے یہ شرح نکال کر دیکھ لیجیئے۔
لیکن اس میں قصور ان خواتین کا بھی زیادہ نہیں ہے ۔ 
جو بھی شخص جب فارغ بیٹھا ہو اور اسے ہر چیز بنا محنت کے مل رہی ہو تو وہ اسے اجاڑنے میں کبھی بھی کوئی تردد نہیں کرے گا ۔
اسے معلوم ہی نہیں ہے کہ یہ سب بنانے کے لیئے، کمانے لیئے کیا کیا محنت کی گئی ہے ۔
 ہم تو اس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں کہ جہاں لوگ لیڈی ڈاکٹر کا رشتہ بھی صرف لوگوں میں اپنا ایمج بنانے کے لیئے لیتے ہیں ۔ اور بیاہ کرتے ہی اس لڑکی کو پریکٹس تک کرنے کی اجازت تک نہیں دی جاتی ۔
 کیا نرسزز ۔ کیا ٹیچرز، ، ٹیکنیشنز ،ایم بی اے ہو یا ماسٹرز ۔ رشتہ لینے کے لیئے تو یہ ڈگری ایمپورٹنٹ ہے۔ لیکن اس لڑکی کے اسی شعبے میں اسکے کام کرنے سے ان کی توہین ہوتی ہے ۔
اب یہ روش بدلنے کا وقت آگیا ہے اگر ہمارے ہاں کے مردوں کو اپنا بوجھ کم کرنا ہے اور سب سے اہم ذہنی بیماری اور دل کے دوروں سے بچنا ہے تو اپنا معاشی بوجھ بانٹنا ہو گا ۔
 اب وہ زمانہ نہیں ہے کہ محدود ضرورت تھی سو ایک آدمی کی تنخواہ میں پوری حویلی کے نکمے پل جایا کرتے تھے۔ 

 اپنے ہاں کی خواتین کو فضول قسم کے جھگڑوں اور مصروفیات سے بچانا ہے تو انہیں نہ صرف تعلیمی میدان میں آگے لائیں بلکہ انہیں پروفیشنل ڈگریز دلوائیں تاکہ انہیں کام کر کے پیسے کی ویلیو کا احساس ہو۔ اس سے فضول خرچی میں بھی خاطر خواہ کمی ہو گی ۔ًمحلّوں اور خاندانوں کے جھگڑوں میں خاطر خواہ کمی ہو گی ۔اور آپ کے گھر کی اور ملک کی آمدنی میں اور سکون میں بھی اضافہ ہو گا ۔ وقت کے ساتھ ہمیں اپنے طرز زندگی میں بھی مثبت تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے ۔ارتقاء اسی کا نام ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم ہر اچھی چیز کو اپنائیں اور ہر بری عادت اور رواج کو خدا حافظ کہیں ۔
 اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہمیں اپنا جہاں بدلنے کے لیۓ اور کتنے حادثوں اور قتل و غارت اور مفلسی کی راہ دیکھنا ہے ۔ فیصلہ ہم سب کو کرنا ہے کیوں کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔
اس نے مڑ کر دیکھا 
وہ کب سے جا چکی تھی۔
  ۔                ۔۔۔۔

پیر، 5 اگست، 2024

نیند۔کوٹیشنز۔چھوٹی چھوٹی باتیں

نیند

جب آپ حق پر ہوتے ہیں تو دل بھی سکون میں ہوتا ہے اور نیند سولی پر بھی بڑی میٹھی آتی ہے۔ 
     (چھوٹی چھوٹی باتیں) 
        (ممتازملک۔ پیرس )

تو کی کردا۔ پنجابی کلام۔ کوسا کوسا


تو کی کردا

ناں تیرے جد فال نہ ہوندی تو کی کردا
میں جے تیرے نال نہ ہندی تو کی کردا

تاڑی دے لئی دو ہتھاں دی لوڑ اے ماہیا
 تال دے اتے تال نہ ہوندی تو کی کردا

پج پج تینوں لب لینی آں لک نہیں سکدا 
ہرنی ورگی چال نہ ہندی  تو کی کردا

تیریاں کمیاں تے وی پردے پائے ہس کے
عشق چہ میں بے حال نہ ہوندی تو کی کردا

دھپ نہ آوے تیرے سر تے ویلے دی جے
کھولے ہوئے وال نہ ہوندی تو کی کردا

تیریاں محنتاں تیرے دعوے کی کر لیندے
ذات اوہو لجپال نہ ہوندی تو کی کردا

شکرے نوں ممتاز نہ پنجرے دے وچ ڈکڑاں
اسمانی ترپال نہ ہوندی تو کی کردا
   ۔۔۔۔۔۔

جمعہ، 2 اگست، 2024

تبصرہ ۔ صغیر تبسم۔ اور وہ چلا گیا


حساس جذبوں کی شاعرہ۔۔۔
ممتاز ملک 

کسی کے چھوڑ جانے کا دکھ بھی بڑا عجیب دُکھ ہے، دل کو اس حقیقت سے باور کروانا بے حد اذیت ناک  ہوتا ہے اور پھر یہی ناتواں دل عمر بھر انتظار کے کرب سے گزرتا ہے۔ کسی کے ہجر میں گزرنے والا اک اک لمحہ صدیوں کے برابر محسوس ہونے لگتا ہے، زندگی کی ریل کسی ویران سٹیشن پر رُک سی جاتی ہے، ہجر میں ایک ایک دن، ایک ایک پل انسان کے دل پر اسقدر بھاری گزرتا ہے کہ اندر سے اک درد بھری آواز آتی ہے :

ہاۓ وہ رات کتنی بھاری تھی
 جو ترے ہجر میں گزاری تھی

کہتے ہیں کہ وقت ہر دکھ کا مرہم ہوتا ہے، ہر روگ کا علاج ہوتا ہے، گہرے سے گہرے زخم کو بھی بھر دیتا ہے، وقت ہر تکلیف مٹا دیتا ہے لیکن ہجر کے ایام میں یہی وقت ناسور بن جاتا ہے، کٹتا ہی نہیں اور انسان کو اپنی تیز تیکھی کٹاری سے اندر ہی اندر کاٹ دیتا ہے:

فصل تیار تھی امیدوں کی 
وقت کے ہاتھ میں کٹاری تھی

ممتاز ملک حساس جذبوں کی شاعرہ ہیں، شاعری اترتی ہی حساس دلوں پر ہے اور پھر وہ ایک عورت کا حساس دل ہو تو  ہر ایک کیفیت چاہے وہ دکھ کی کیفیت ہو یا خوشی کی، انتظار کی کیفیت ہو یا بچھڑنے کی، رونے کی کیفیت ہو یا مسکرانے کی، محبت کی کیفیت ہو یا نفرت کی وہ دل ہر کیفیت کو ٹوٹ کر محسوس کرتا ہے۔
 ممتاز ملک کی شاعری کی طرح ان کے الفاظ بھی بہت حساس ہیں، وہ اپنے حساس اور اداسی میں ڈوبے خیالات کو اس طرح سادگی سے الفاظ میں ڈھالتی ہیں کہ شعر پڑھتے ہی دل میں اتر جاتا ہے :

کُھردری کُھرردی اُداسی ہے 
 مخملی مخملی خماری ہے

مضبوط سے مضبوط انسان بھی دکھ جھیلتے جھیلتے اک دن آخر تھک جاتا ہے، زندگی سے اس کا دل اُکتا جاتا ہے، وہ جابجا بھٹکتا ہے، اماں ڈھونڈتا ہے، سکوں ڈھونڈتا ہے، وہ دکھوں کا بوجھ اُٹھاۓ دربدر پھرتا ہے، کہیں کوٸی سہارا، کوٸی پیارا نہیں ملتا، کوٸی ایسا کاندھا نہیں ملتا جہاں وہ سر رکھ کر روۓ اور روتے روتے سو جاۓ بلآخر وہ آسمانوں کی طرف نم آنکھوں سے دیکھ کر، غم سے  بوجھل دل کے ساتھ پورے درد سے پکارتا ہے:

یوں تو دلدار ہے دنیا کی سجاوٹ مولا
 لوگ اخلاص میں کرتے ہیں ملاوٹ مولا
 ہو ترا حکم تو سُستا لیں گھڑی بھر کو کہیں
زندگی بھر کی اتر جاۓ تھکاوٹ مولا 

ممتاز ملک کی شاعری کا ایک ایک لفظ احساس میں گُندھا ہوا ہے، مصرعوں کی سادگی ہی ان کی شاعری کا حُسن ہے، ان کے ہاں ہر اس کیفیت کا بیان ہے جو ایک حساس دل محسوس کرتا ہے مگر کہہ نہیں سکتا:

گُھلی ہیں سِسکیاں ہر ایک لے میں
یہی اس گیت کا رنگِ طرب ہے

ممتاز ملک نے بِلا خوف خطر ہر وہ کیفیت اشعار میں پروٸی ہے جو ان کے حساس دل پر بیتی یا  محسوس کی، ان کی آہیں، سسکیاں، آنسو، کرب، اذیت ان کے اشعار میں واضح محسوس ہوتے ہیں، یہی ایک حساس شاعر کی نشانی ہے۔
ممتاز ملک صاحبہ کو ان کے اس شعری مجموعہ ”اور وہ چلا گیا“ کی اشاعت پر مبارکباد اور ڈھیر دعاٸیں

صغیر تبسم
(معروف پنجابی اور اردو شاعر)

بدھ، 31 جولائی، 2024

تبصرہ۔ ممتاز منور انڈیا۔ اور وہ چلا گیا۔ اشاعت 2024ء


ممتاز شاعرہ ممتاز ملک

کرونا وبا کے دوران ایک مثبت بات یہ ہوئی کہ آن لائن مشاعروں کا دور شروع ہو گیا۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک کے شعراء سے متعارف ہونےکا موقع ملا۔ انھیں میں سے ایک باوقار شخصیت ہیں ممتاز ملک ۔
جن کا تعلق پیرس سے ہے۔ حسین و جمیل، شگفتہ مزاج ,زندہ دل اور زندگی سے بھر پور۔ بہترین ناظمہ۔
 ان کی نظامت میں مشاعرہ پڑھنے   کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ آپ  ادبی تنظیم "راہ ادب فرانس " کی بانی اور روح رواں ہیں۔ جس کے تحت آپ اردو اور پنجابی عالمی مشاعرے منعقد کرواتی رہتی ہیں۔ اپنی خوبصورت ادا سےاور دلفریب ترنم میں جب آپ اپنا کلام پیش کرتی ہیں تو سامعین مسحور ہو جاتے ہیں۔ جتنے خوبصورت  طریقے سے کلام کی ادائیگی ہوتی ہے اتنا ہی خوبصورت ان کا کلام ہوتا ہے۔ ان کا شعری مجموعہ"اور وہ چلا گیا" ابھی ابھی موصول ہوا۔ ممتاز صاحبہ کے حکم کی تعمیل میں اس کتاب کے تعلق سے  اپنے خیالات پیش خدمت ہیں۔
اس کتاب کو ادارۀ اردو سخن ڈاٹ کام نے شائع کیا ہے ۔ 200 صفحات پر مبنی اس کتاب کا انتساب بھی دلچسپ ہے۔ جس کو أپ نے "وطن عزیزکی فلاح و بہبود کے لۓ سوچنے والوں کے نام" کیا ہے۔ کیونکہ آپ خود بھی معاشرے کی فلاح و بہبود کے بارے میں نہ صرف سوچتی ہیں بلکہ اس میدان میں فعال بھی ہیں۔ جس کی جھلک  ان کے کلام میں بھی نظر أتی ہے ۔ وہ کہتی ہیں

ناچتی پھرتی ہے یہ نسل نو
کجھ تو ان میں فنون رہنے دو

یہ شعر بھی ملاحظہ کریں

گھر میں ہی انصاف کی پامالیاں ہونے لگیں
داغ سینے کے زمانے کو دکھانے پڑ گئے

ممتاز صاحبہ اج کے دور کی خاتون ہیں۔ تعلیم یافتہ، اپنا ذہن، اپنی راۓ رکھنے والی۔ اپنے وجود کی اہمیت جتانا خوب جانتی ہیں۔کہتی ہیں

چوڑیاں چھوڑ کے ہتھیار  اٹھایا میں نے 
نہ سمجھ تو اسے بیکار اٹھایا میں نے

 اسی طرح وہ اپنے أپ کو کسی سے کمتر نہیں سمجھتیں۔  بلکہ برابری کا درجہ چاہتی ہیں۔

تمہارے رنج و غم اپنے جگر میں پالتی ہوں
میں ہمدم ہوں محض اک شوق رکھوالی نہیں ہوں

کہیں کہیں ان کی شاعری میں زمانے سے شکایت کا رنگ بھی نظر آتا ہے۔ وہ کہتی ہیں

یہ مطلب پرستوں کی دنیا ہے پیارے
یہاں زندگی کون ہنس کے گزارے
یہاں پر خوشی میں تو ہنستے ہیں سارے
مگرساتھ روتے نہیں ہیں ہمارے

انہیں اپنے دوستوں سے بھی گلہ ہے کہ

اپنے ہی رلاتے ہیں اپنے ہی ستاتے ہیں
غیروں میں کہاں دم تھا کہ آنکھ کو نم کرتے

 آج کل کے حالات پر بھی وہ گہری نظر رکھتی ہیں اورفرماتی ہیں

ہے تم پر فرض پہلا،  پرورش اچھی کرو ان کی
جنم دیتے ہی جن کو تم ، لگاتے ہو کمانے پر

ان شکوے شکایات کے باوجود آپ نہایت پر امید ہیں

جہاں کوئی نیا أباد کر لیں
یہ دنیااب پرانی ہو گئی ہے

 اور یہ بھی ملاحظہ کریں

رات کے بعد ممتاز دن آئیگا 
سوچ نہ دن کے آگے محض رات ہے

آپکی شاعری کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کو پڑھنے کے بعد قاری کے ذہن پر ایک مثبت تاثر چھا جاتا ہے ۔ شاعر کا کمال ہی یہی ہے کہ وہ اپنے قاری کی سوچ کوصحیح اور مثبت سمت دے ۔
اس کتاب کی اشاعت پر میں ممتاز صاحبہ کو دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں اور دعا گو ہوں

اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
 ڈاکٹر ممتاز منور
صدر
انجمن ترقی اردو( ہند)
پونے. . . .  انڈیا
                 ۔۔۔۔۔۔۔

اتوار، 28 جولائی، 2024

* تبصرہ ۔ رشید شیخ ۔ اور وہ چلا گیا




کیا شاعرہ، کیا ناظمہ!

محترمہ ممتاز ملک اردو ادب کے افق پر وہ درخشندہ ستارہ ہیں جس نے عالمی آن لائن مشاعروں میں نظامت کے جوہر دکھا کر عالمی شہرت کی بلندیوں کو  چھو لیا ہے۔
عالمی آن لائن مشاعروں کا سلسلہ COVID-19 کے زمانہ میں شروع ہوا ۔ کیونکہ اس زمانے میں ہر ملک میں اجتماعات منعقد کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ ظاہر ہے زمینی مشاعروں کا سلسلہ بھی منقطع ہوگیا ۔البتہ اسکا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اردو کے متوالوں نے آن لائن مشاعروں کی سبیل ڈھونڈ نکالی جس کے ذریعہ
نہ صرف عالمی سطح پر ایک دوسرے سے تعارف ہونا شروع ہوا بلکہ اردو شاعری کو بھی ترسیل و ترویج اور مقبولیت حاصل ہوئی ۔
اسی زمانے سے گلوبل رائیٹر ایسوسی ایشن، اٹلی، بزم سخن شکاگو، اور دائرہ ادب نیویارک وغیرہ شعر و سخن کے اس میدان میں بہت سر گرم عمل ہیں۔
گلوبل رائیٹر ایسوسی ایشن اٹلی کے ایک عالمی آن لائن مشاعرہ میں نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے محترمہ ممتاز ملک سے تعارف حاصل ہوا اور بہت محظوظ و متاثر ہوا۔  آپ غضب کی نظامت فرما تی  ہیں ۔ اللہ کرے زور نظامت اور زیادہ!
یہی نہیں بلکہ یہ بھی پتہ چلا کہ آپ شاعری بھی فرماتی ہیں اور بہت عمدہ  شاعرہ ہیں جب انہوں نے مشاعرہ کے دوران اپنے کلام سے محظوظ کیا۔یہ خوبصورت لہن میں سلاست و روانی کے ساتھ دل موہ لینے والی شاعری ہے۔واہ! واہ! واہ! انکا نظامت کے دوران چٹکلے اور خوش گپیاں کرنا مشاعرہ میں جو شگفتگی پیدا کرتا ہے اس سے کوئی بھی محظوظ ہونے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہرشاعروشاعرہ کو پر وقار طریقہ سے مختصر تعارف کے ساتھ دعوت کلام دینا انکی نظامت کی فنی صلاحیت کا آئینہ دار ہے۔ اسی طرح وہ مشاعرہ کو اختتام تک چا بکدستی سے دلچسپ اورپرامن رکھتی ہیں۔
حال ہی میں انکا ایک مجموعہ کلام بعنوان" اور وہ چلا گیا" اشاعت کے لئے پرتول رہا ہے۔ جس کے لئے محترمہ نے مجھے بھی اظہار  خیال کا موقع مرحمت فرمایا ہے۔ من آنم کہ چہ دانم! تاہم مجموعہ کلام کا بنظر غائر مطالعہ کرنے سے لگا کہ واقعی ایں گل گلاب است!
اپنی نوعیت کا منفرد کلام ہےجو سماج کے ہر طبقہ فکر کی عکاسی کرتا ہے ۔
 یہ مجموعہ کلام نوے منظومات پر مشتمل ہے۔ ہر نظم باقاعدہ ایک عنوان کے تحت لکھی گئی ہے۔ جو تفصیلا اس عنوان کی پیروی کرتا نظر آتا ہے۔ ذیل میں چند  نظمیں بمعہ عنوان اور منتخبہ اشعار کے ملاحظہ فرمائیں:-
پتھر کا شہر: 
اب کوئی دھوپ نہ پگھلائے گی پندار میرا
میں نے اک چاند کو جو اپنے سر پر تان لیا

اس نے سونے کو بھی صحرائوں میں رولا جاکر
ہم نے بھی ریت سے سونے کو مگر  چھان لیا

ایک اور نظم عنوان" جاری ہم پہ"
ہے فسوں اس کا بڑی دیر سے طاری ہم پہ 
حکم الطاف ہوا کرتا ہے جاری ہم پہ 
 بخت والوں کو ملا کرتا ہے آب شیریں
میٹھے چشموں کا بھی پانی ہوا کھارا ہم پہ

نظم " ساتھ نبھانے والے"
اب کہاں ملتے ہیں وہ ساتھ  نبھانے والے 
میرے ہاتھوں میں چھپے راز بتانے والے
ہم تو ممتاز سمجھتے ہیں اسی کو ہیرو
ڈوبنے والے کو ہر طور بچانے والے

اسی طرح اور بہت سی نظمیں ہیں جو دلچسپی سے خالی نہیں ۔ مثلاً دیئے بجھنے لگے، میرے بغیر، غضب داستان، جاں بلب، جلتےہیں، سرکار وطن میں ،
ڈھم ڈھما ڈھم، وغیرہ وغیرہ 
جہاں تک فنی تقاضوں کامعاملہ ہے۔ آپکا کلام علم عروض سے آراستہ ہے۔ اور تمام منظومات غزل کے پیرائے میں لکھی گئی ہیں۔ یعنی ہر شعر ہم قافیہ اور ہم ردیف ہے۔ اس طرح غزل گوئی کے فن کو نظم کے رنگ میں سمویا گیا ہے۔جو ایک دلچسپ انداز لگتا ہے۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ ۔ توقع کرتا ہوں کہ محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کے مجموعہ کلام " اور وہ  چلا گیا" کو ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی حاصل ہوگی۔
رشید شیخ شکاگو ، 
صدر بزم سخن شکاگو

ہفتہ، 27 جولائی، 2024

& چوزہ۔ افسانہ۔ قطرہ قطرہ زندگی

چوزہ
افسانہ:
 (ممتازملک ۔پیرس)

تپتی ہوئی دوپہر میں وہ چھوٹی سی بچی جس کی عمر بمشکل سات یا آٹھ برس ہوگی، 
چھت کے گرم فرش پر خود کو بچاتے ہوئے ننگے پیر بھاگ رہی ننگے تھی۔ 
اس کا باپ ہاتھ میں پانی بھرنے کا پلاسٹک کا پائپ لیئے اسے تاک تاک کر نشانے پر پیٹ رہا تھا۔
ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ایک جلاد کی روح اس میں سرایت کئے ہوئے تھی۔ پڑوسی وقفے وقفے سے بچی کے رونے کے شور پر اپنی دیواروں سے جھانک جھانک کر چھپ جاتے۔
یہ آج محلے میں سب سے مذیدار خبر بننے جا رہی تھی اس لیئے سبھی اس کا بھرپور مزہ لے رہے تھے۔
کسی ایک کو بھی اس بچی کی تکلیف نہ دکھائی دی نہ سنائی دی۔
سب نے اپنے کان اور آنکھیں شاید اپنے ہاتھوں پھوڑ رکھی تھیں ۔ 
وہ بچی جو بار بار روتے اور پٹتے ہوئے چلا رہی تھی اس امید سے کسی بھی جھانکتے ہوئے کو سر اٹھا کر فریاد بھری نظروں سے دیکھتی کہ کوئی تو اسے اس قصائی سے بچا لے
 لیکن افسوس ۔۔۔
 تماش بینوں میں کوئی بھی انسان نہیں تھا ۔ 
اس کے جسم پر پائپ کے نیل بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ 
دیکھنے والوں میں کوئی نہیں مان سکتا تھا کہ یہ بچی اس جلاد کی اپنی بچی  ہے۔
اسی چھت پر اپنے ڈربے سے باہر گھومتے چھوٹے چھوٹے کمزور سے چوزے بھی بھاگ رہے تھے جو یہ تماشہ دیکھ کر حیران تھے ۔
 اس باپ کو یہ خیال تک نہیں تھا کہ یہاں یہ چھوٹے چھوٹے چوزے بے زبان جانور بھی اسے دیکھ رہے ہیں۔ یہ اسکے ڈر سے بھاگ رہے ہیں بلکہ وہ اپنی نشانے سادھے جا  رہا تھا، 
لیکن وہ بچی دھوپ میں جلتے فرش پر پیر یہ سوچ کر  رکھ رہی تھی کہ کوئی چوزہ اس کے پاؤں کے نیچے نہ آ جائے۔
 ابو جی مجھے معاف کر دو۔ 
پتہ نہیں وہ ننھے ننھے ہاتھ باندھے کس جرم کی معافی مانگ رہی تھی۔
 دائیں بائیں گھروں میں سے کوئی نہ کوئی چھت پر سے جھانک کر اس تماشے کو انجوائے کر رہا تھا،
اسے روک کر کوئی بھی اس ظالم کی قہر کا شکار ہونے کو تیار نہیں تھا۔ 
 لیکن پھر وہی ہوا جس سے وہ بچی بچنا چاہتی تھی ایک طرف باپ شکاری، پلاسٹک کے موٹے پائپ سے اسے پیٹے جا رہا تھا،
 اور ایک طرف وہ معصوم چوزوں کو بچانے کے لیئے اپنے پاؤں سہج سہج کر آگے بڑھا کر خود کو بھی بچانا چاہتی تھی اور ان چوزوں کو بھی،
 لیکن ایک معصوم سا چوزا اس کے پیروں کے نیچے آ ہی گیا۔
 اس نے اپنی آنکھوں سے مڑ کر دیکھا تو اس معصوم سے چوزے کی انتڑیاں باہر آ چکی تھیں۔
 وہ اپنے درد کو بھول کر اس چوزے کے درد میں اور زور سے رونے لگی۔ 
وہ خود کو قاتل سمجھنے لگی۔
یہ قتل بھی اس کے باپ نے اسی کے حساب میں لکھ دیا ۔ اس کے موت کے جرم میں اسے مزید کتنی دیر تک اپنی کھال ادھڑوانی پڑی۔
اس کے معصوم سے دل میں اس چوزے کی قبر بن گئی۔
 اس روز وہ چوزہ نہیں مرا بلکہ اس کے دل سے اس کے باپ کی محبت کا جنازہ بھی نکل گیا۔
                   -----

& بیرنگ ...... افسانہ۔ سچی کہانیاں۔ قطرہ قطرہ زندگی



      بیرنگ


راضیہ کو اس سرکاری ملازمت پر آئے ہوئے آج پورے دس سال ہو چکے تھی.  اچھی تنخواہ, پک اینڈ ڈراپ کی سہولت اور اچھے دفتری ماحول نے انہیں کبھی کوئی فکر مندی نہیں دی. 
ویسے تو وہ واجبی سی شکل صورت کی لڑکی تھی لیکن ان کی خوش کلامی اور حس مزاح سے وہ بہت جلد سبھی کی پسندیدہ  کولیگ بن گئیں. 
دس سال پہلے جب اپنے والد کی وفات کے بعد انہیں بڑے بھائی کے اکیلے گھر کے اخراجات کا بوجھ اٹھانے میں دقت محسوس ہوئی تو اس نے بھی ملازمت کرنے کا ارادہ کر لیا  .
یوں تو اس وقت وہ تئیس برس کی ہو چکی تھی.  اس کی کئی دوست بیاہی جا چکی تھیں ۔ اور اس سے اس کی شادی کے بارے میں سوال کیا کرتی تھیں ۔
ہر لڑکی کی طرح وہ بھی اب اپنا گھر بسانے کی خواہش رکھتی تھی.
 لیکن گھر کے مالی حالات اس قابل نہ تھے کہ اس کی شادی کا بوجھ اٹھا سکتے. 
 بھائی کی ملازمت کو ابھی ایک ہی سال ہوا تھا.  اس کی تنخواہ سے بمشکل ان کے تین افراد کا کنبہ ہی پل سکتا تھا.
اس نے اپنی ماں کو ملازمت کرنے کی اجازت دینے پر راضی کر ہی لیا ۔ 
  ویسے بھی ایک بہت اچھے سرکاری ادارے میں انٹرویو دیکر آئی تو بہت پر امید تھیں لیکن دن پر دن گزرتا گیا . انٹرویو پر انٹرویو ہوتے رہے لیکن ایف اے پاس راضیہ کو کہیں سے کوئی حوصلہ افزاء جواب نہ مل سکا.
  کہیں سے جواب آتا بھی تو تنخواہ محض اتنی تھی کہ وہاں کے آنے جانے کا بس کا کرایہ ہی  بمشکل نکل پاتا.  سو دو تین گھنٹے کے سفر کا کوئی مقصد نہیں تھا. 
 ان دفاتر اور اسکولوں کے چکر کاٹ کاٹ کر  حقیقتا اسکے جوتے گھس چکے تھے ۔
جہاں خاتون افسر سے واسطہ پڑتا وہاں سے تنخواہ کا کوئی معقول آسرا نہ تھا اور جہاں مرد افسر سے واسطہ پڑتا وہاں عزت ملنے کی کوئی امید نہ رہتی ۔ 
بمشکل اسے بھائی کے کسی جاننے والے کی سفارش پر کنڈر گارڈن میں پریپ کی کلاس کے بچوں کو اے بی سی سکھانے کی ملازمت مل ہی گئی۔
 ۔ تنخواہ دوسرے پرائیویٹ سکولز کی طرح برائے نام تھی لیکن گھر کے نزدیک ہونے کے سبب پیدل آنا جانا تھا تو بس کے کرائےکا کوئی خرچ نہیں تھا ۔ اس لیئے وہ خوش تھی ۔ ۔
جاب کیساتھ پڑہائی بھی جاری رکھی اور اپنا بے اے اور بی ایڈ  مکمل کر ہی لیا ۔
 تو اسے اس سرکاری سکول میں بہت اچھی تنخواہ پر ملازمت بھی مل گئی ۔
اسے معلوم ہی نہ ہوا کہ کب اس کی عمر کی بہار پر خزاں چھانے لگی ۔ اس کے بھائی کی شادی ہو چکی تھی اسکے تین بچے اسے پھوپھو پھوپھو پکارتے اب پرائمری کلاسز پار کر رہے تھے ۔
آئینہ آج کیوں بول پڑا 
آج اس کی ایک دوست کی سب سے چھوٹی بہن کی بارات تھی ۔ اس کی سکول کے زمانے کی بچپن کی سہیلی انجم  نے گاڑی کا ہارن دیکر اسے باہر بلایا 
اسلام علیکم آنٹی 
اس نے گاڑی کی اگلی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے پیاری سی گنگناتی ہوئی آواز سنی
مڑکر پچھلی سیٹ پر دیکھا تو حسین سی ٹین ایجر گڑیا سے لڑکی کو مسکراتے پایا 
وہ ہڑبڑا کے اسے ایک ٹک دیکھتی گئی۔
 تو انجم نے اسے ہنس کر خواب سے حقیقت کی زمین پر اتارا 
ارے بھئی کیا دیکھ رہی ہو
نظر لگاو گی میری بیٹی کو کیا 
وہ ہنستے ہوئے بولی
ہیں نظر مطلب۔۔
وہ جملہ ترتیب نہ دے پائی تو انجم نے ہی تعارف کرایا 
ارے بھئی یہ ہے میری شیطان بیٹی حورم ۔ جو آج زبردستی میرے ساتھ شادی پر جا رہی ہیں ۔۔
دونوں ماں بیٹی اس جملے پر ایکساتھ ہنس دیں 
راضیہ حیران نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی 
ارے کتنی بڑی ہو گئی ہے ماشاءاللہ میں نے اسے شاید اس وقت دیکھا تھا جب اس کی پہلی سالگرہ تھی 
جی آنٹی لیکن میری ماما تو آپ کی اتنی باتیں کرتی ہیں کہ مجھے لگتا ہے کہ آپ ہمارے ہی گھر میں رہتی ہیں ۔ 
حورم نے شرارت سے اپنی ماں کو چھیڑا ۔ 
ابھی کل کی بات ہے کہ ادھر ہمارے بارہویں کے امتحانات ختم ہوئے ادھر ابا نے میرے ماموں زاد سے میرا رشتہ پکا کر دیا اور نتیجہ آنے سے پہلے میری رخصتی کر دی گئی۔ سال بھر میں یہ محترمہ تشریف لے آئیں ۔ اورمیں اس میں مصروف ہو گئی اور تم نوکری کی تلاش میں چار سال خوار ہوتی رہی۔ 
آج محترمہ کی  اٹھارہویں سالگرہ بھی ہے۔ 
انجم بولتی رہی اور اس کے وہ سارے خواب  جو اس نے حورم کی عمر میں سنجوئے تھے ۔ پتہ پتہ اس کی آنکھوں کے سامنے وقت کی ہواوں پر اڑتے بکھرتے دکھائی دے رہے تھے ۔ 
بارات سے واپسی پر انجم نے اسے اسکے گھر کے سامنے اتار کر گاڑی آگے بڑہائی۔
 لیکن آئینے کے سامنے کھڑی راضیہ   جسے آج خود کو غور سے دیکھنے کا خیال آیا ،اسے ان دس سالوں میں دنیا کی بدلتی ہوئی تصویر میں اپنے حصے کا کوئی  رنگ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
 ماسوائے اس کے روکھے بالوں میں پھیلتے چاندی جیسے سفید رنگ کے   یا بے رونق سخت ہوتے ہوئے چہرے کے اڑتے ہوئے رنگ کے سوا ۔۔۔۔۔۔
                    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


بدھ، 24 جولائی، 2024

تبصرہ ۔ رحمان امجد مراد ۔ اور وہ چلا گیا ۔ اشاعت 2024ء



تبصرہ: رحمان امجد مراد سیالکوٹ 
لکھاری۔  40 کتب

شعر اور فرد کے مابین استوار ہونے والے رشتوں میں سب سے واضح اور معتبر رشتہ "لاشعور" کی سطح پر قائم ہوا کرتا ہے۔ شعری زبان اور ہیئت (form) کی تفہیم فوری طور پر "شعور" کی مرہون منت ہی سہی لیکن متن( text) کی(application) ہمیشہ "لاشعور" بلکہ اگر صحیح اصطلاح اپنائی جائے تو "اجتماعی لاشعور " کے وسیع و عریض علاقے پر ہوتی ہے ۔ یوں بھی جدید نفسیات کے مطابق افہام کی اصل سطح "اجتماعی لاشعور" کی انہی یادداشتوں سے عبارت ہے۔  تخلیق سے اظہار تک کے تمام مراحل سہل نہیں ۔ نہ جانے کتنے ہی ہفت خواں سر کرنے کے بعد شاعر اس اقلیم سخن تک رسا ہوتا ہے
 جہاں اسے لفظ کا اصل فطری لحن نصیب ہوتا ہے اور بقول غالب~
 بے نشہ کس کو طاقت آشوب آگہی
 بہرحال سخن کے حوالے سے کام پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔ (اگرچہ نہ ہونے کے برابر صحیح ) اور آج بھی اس سلسلے میں انفرادی سطح پر بہت سے لوگ مصروف کار ہیں۔ آج اس قبیلے کی ایک فرد سے آپکو ملوانا چاہتا ہوں۔ اس کے کہے ہوئے شعروں میں، اس کے برتے ہوئے لفظوں میں، دھیما سا سہی لیکن ایک نیا ذائقہ آپ کو ضرور ملے گا۔
 >ساری دنیا کو لے کے کیا کرنا
 صرف میرا، میرے خدا ہو جا

>جب سے چوما ہے میں نے صحن حرم
 بے قراری سے میں قرار میں ہوں
 محترمہ ممتاز ملک کی ذات اور شاعری میں جو باتیں مشترک ہیں اور ان میں سب سے اہم بات کسی اور کو اپنا گرویدہ بنانے کی خصوصیت ہے۔ جس طرح محترمہ ممتاز ملک سے ملنے والا شخص ان سے متاثر ہوتا ہے بلکہ دوسری تیسری ملاقات میں ان کے گنوں کو پوری طرح جان جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح ان کی شاعری فوری طور پر ذہنوں پر حاوی ہو کر اپنی موجودگی کا اظہار کرتی ہے۔ ( یہ میرا خیال ہے) آئیے محترمہ ممتاز ملک کے آئینے کے سامنے کچھ وقت گزارتے ہیں۔۔۔
* ہم نہ آتے جو یہاں کون بتاتا ہم کو
 کس کی اوقات ہے کیا آ کے یہاں جان لیا 

*کھردری کھردری اداسی ہے
 مخملی مخملی خماری ہے 

*ساری دنیا کی اذیت سے تقابل کرتے
 اس کا ہر لفظ جہاں بھر سے تھا بھاری ہم

* محرومیوں کا درد یا احساس کی کمی ہے
 سوچوں کے آئینوں پر اک گرد سی جمی ہے 

*دھڑکنیں ہو گئیں ساقط تیرے جاتے جاتے
 کس طرح تجھ کو میری جان بھلائیں گے ہم

* اگر ہر شعر کو اکائی سمجھا جائے تو اس کتاب میں شامل اکثر غزلیں ایک بالغ نظر حساس شخصیت کی زندگی میں لمحہ لمحہ رنگ بدلتی رتوں اور تیور بدلتے رشتوں کی رپوتاژ بھی کہلا سکتی ہیں دراصل ۔۔۔۔۔ 
سچا تخلیق کار وہی ہوتا ہے جو اپنی داخلی واردات کے ساتھ ساتھ خارجی معاملات و مشاہدات کو بھی پیرایئہ اظہار دینے کا ہنر رکھتا ہو۔
محترمہ ممتاز ملک پر یہ نقطہ یقینا منکشف ہو چکا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں مذکورہ بالا دونوں جہتیں موجود ہیں اور لطف یہ کہ تمام تر فنی باریکیوں کے ساتھ ۔۔
چند مثالیں ملاحظہ ہوں ۔۔۔
*میرے ہاتھوں میں چھپے راز بتانے والے
 اب کہاں ملتے ہیں وہ ساتھ نبھانے والے

 *ہرگز یہ سمجھنا یہاں دشوار نہیں ہے
 اس ملک سے کوئی بھی وفادار نہیں ہے

* گھلی ہیں سسکیاں ہر ایک لے میں 
 یہی اس گیت کا رنگ طرب ہے

* کیا خوشی کبھی تذکرہ کرتا
 یہ تو پہلو میں غم کی سوتی ہے 

* لب پہ نغمے وصال کے لیکن
 آنکھ میں ہے جدائی کا موسم

 اس کتاب کی بیشتر غزلوں میں شاعرہ کی ٹریٹمنٹ میں نہایت سادگی نظر آئے گی۔ اس کی زبان میں محاورے سے زیادہ روزمرہ کا لہجہ استعمال ہوتا ہے۔  محترمہ ممتاز ملک اور لفظوں کے درمیان بڑی بے تکلفی ہے اور یہ بڑی اہم چیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ہاں جیتی جاگتی اور سانس لیتی زندگی دکھائی دیتی ہے۔
* وہ بھی تجھ کو بچا نہیں سکتے 
جی اٹھے ہیں جو تیرے آنے پر

* گر بجھا سکتے نہیں، اچھا ہے تم دور رہو 
مت بھڑکتے ہوئے، شعلوں کو ہوا دو جا کر

* بہت قابل جسے مانا جہاں نے
 ناکارہ کر کے چھوڑا ہے کسی نے

* دبا کے درد کو مسکان کوئی کم تو نہیں 
اسے اسی میں تو بے حد کمال گزرا ہے 

*نظروں سے لوگ پوچھتے ہیں سجتا دیکھ کر 
کس کو سنگھار اپنا دکھائیں تیرے بغیر

* لب نہ کہہ پائیں وہ آنکھوں سے عیاں ہوتی ہے
 ہر محبت میں عقیدت یہ کہاں ہوتی ہے
 ہم نے محسوس کیا خود کو بھی بے بس اس جاء
 والہانہ سی یہ زنجیر جہاں ہوتی ہے

* جب ضرورت ہو مجھے یاد بھی کر لیتا ہے
 بن ضرورت کے نہیں وقت گنوانے والا 

* معاملہ اتنا بھی آسان نہیں ہے صاحب
 جتنے انسان نے آسان سمجھ رکھا ہے

* ہم زندگی کی بھیڑ میں گم کس قدر ہوئے 
کھینچا ہے واپسی نے بھی فرمان کی طرح

* جو کچھ گزر رہی ہے اس سے نظر چرا کر
 کچھ اور ہی دکھانا , آسان نہیں ہوتا 

*زندگی میں سکون رہنے دو
 تھوڑا تھوڑا جنون رہنے دو 
ہو چکا ہے جو رب کی رحمت سے 
تم بھی اس کو ملعون رہنے دو

 زندگی کی کڑوی اور سنگین حقیقتوں کی نقاب کشائی محترمہ ممتاز ملک کے مزاج کا حصہ ہے۔ وہ تخیل پرست نہیں بلکہ جو کچھ اپنے سامنے دیکھتی ہے اس کو اپنے شعر کا موضوع بناتی ہے۔  خارجی حالات کو دیکھ کر جو باتیں اس کے ذہن میں آتی ہیں۔ انہی کی تفصیل اور جزئیات کو پیش کرتی ہیں۔ اس کی شاعری میں عذاب زیست کے سارے باب کھلے نظر آتے ہیں۔  محترمہ ممتاز ملک جذبوں کا جوڈو کھیلنا جانتی ہیں ۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں زندگی کی بڑی بڑی حقیقتوں کو بیان کر جاتی ہیں۔ دراصل اس نے چھوٹی باتوں میں ہی زندگی کی حقیقتوں کو دیکھا ہے ۔ اس لیے وہ ہر اس چیز کو ٹٹولتی ہے جس پر ہاتھ ڈالنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ فنی اعتبار سے وہ اپنا جواب آپ ہے۔۔۔ وہ حساس اور بے باک ہونے کے ساتھ ساتھ غیور بھی ہے۔ اس کے شعری سٹائل میں سادگی اور پرکاری کے ساتھ تیکھا پن اور نوک پلک کی درستی بڑی مٹھاس کے ساتھ بھری ہوئی ہے۔ وہ دو مصروں میں بے تکلفی کے ساتھ سارے گن ظاہر کر دیتی ہے۔ وہ شعر بازوں اور شعر گروں سے الگ تھلگ رہ کر اپنے فیصلے صادر کرنے کی عادی ہے۔ اس لیے وہ اکثر فیصلے درست کرتی ہے۔ وہ بڑی سے بڑی ٹریجڈی کو سہولت کے ساتھ ایک شعر میں بیان کر سکتی ہے۔ اس کی شاعری مخملی ملائم کے ساتھ کلف کیئے ہوئے کاٹن کی طرح کھنک اور اینٹھتی ہوئی اکڑ بھی موجود ہے۔
" اور وہ چلا گیا"  کا عنوان ہی اپنے اندر بے پناہ درد اور معنویت رکھتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر یہ مصرع جس شعر یا غزل سے لیا گیا ہے۔ اس کا موڈ کیا ہے ۔ ہمارے نزدیک ہر مصر ایک الگ اور آزاد بلاز کی حیثیت رکھتا ہے، اور ایک اکائی کی حیثیت سے ہر مصرع شاعرہ کی مکمل تحلیل نفسی کا تقاضا کرتا نظر آتا ہے۔ کم از کم میرا تو یہی خیال ہے۔ آپ بھی اس کتاب کے ٹائٹل کو کچھ وقت الگ سے ضرور دیں۔
 محترمہ ممتاز ملک کے بقول~

ہم کو بھی سانس لینے کو، تازہ ہوا ملے 
گل سے گلوں سے، ہم کو لگاوٹ نصیب ہو
 میں محترمہ ممتاز ملک کو ان کے پابچویں  اردو شعری مجموعہ کلام " اور وہ چلا گیا "
کی تخلیق پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں 
" اللہ کرے زور قلم اور زیادہ"
 دعاگو 
رحمان امجد مراد
 بانی اور چیئرمین کرائیڈن اکیڈمی سیالکوٹ 
0321.6151642

پیر، 22 جولائی، 2024

* عمر گزاری ہے/ اردو شاعری ۔ اور وہ چلا گیا


عمر گزاری ہے 

لو یو لو یو کرتے کرتے اس نے عمر گزاری ہے 
جھوٹ کا لو یو سچ کی خاموشی پر ہر دم بھاری ہے

ہر  بات کھلی ہے اور یہاں  ہر راز سے پردہ اٹھا ہے
 دل پھر بھی  تسلیم کرے نہ، ایک عجب لاچاری ہے

راہنما خود بھٹکا ہے اور آقاؤں کی دہشت ہے
 کیسا انتخاب ہے جو غیرت پر ضرب کاری ہے 

حق بات کہو تو غداری کی سندیں ہوتی ہیں جاری
ایمان کا سودا طے کرنا ہی کاہے کی دلداری ہے

بند یہاں بندہ سکتا ہے جو لوٹ مچی ہے ہر جانب  
ایمان سلامت ہو اپنا اور  شرط محض بیداری ہے

حد ہوتی نافرمانی کی حد ہوتی ہے گستاخی کی
یہ بات اسے سمجھانے میں پیش آتی 
ہر دشواری ہے

ان گلیوں میں کیا رکھا ہے ممتاز سوا بہروپیوں کے
نت روز تماشے ہوتے ہیں اک اور کی  اب تیاری ہے
۔۔۔۔۔۔۔

جمعہ، 19 جولائی، 2024

& نامعلوم لاٹریاں۔ افسانے۔ سچی کہانیاں۔ قطرہ قطرہ زندگی





نامعلوم لاٹریاں        




جب سے پاکستان آئی ہوں ہر چوتھے روز کسی نہ کسی نمبر سے مجھے اس لاٹری کی خوشخبری سنائی جاتی ہے جو میں نے کبھی 
خریدی تک نہیں .
شبینہ نے بیزاری سے اپنی دوست عادلہ کو بتایا 
لیکن انہیں نام ، پتہ کیسے ملتا ہے 
عادلہ نے اس سے سوال کیا
بھئی ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ 
ہیلو جی آپ کا فون نمبر فلاں مہینے میں ہمارے پاس میسج کے جواب میں آیا تھا جس پر آپکا پانچ لاکھ روپے اور دس تولے سونا لاٹری میں نکلا ہے...
ایک موٹر سائیکل اور بیس تولے سونا نکلا ہے.....
دس لاکھ روپے کا انعام نکلا ہے ...
تو پھر 
پھر کیا ایک نمبر دیا جائیگا جلدی کریں اپنا انعام وصول کریں جیسے انعام  کسی بم پر رکھا ہے نہ اٹھایا تو دھماکا ہو جائیگا 
اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا
پھر ۔۔۔

پھر کیا 
اس نمبر پر فون کرو تو وہاں اںکق ایک ڈاکو بلکہ ڈیجیٹل ڈالو آپ کو پانچ دس پندرہ ہزار روپے فلاں بندے کو بھجنے کے لیئے چکنی چپڑی نصیحت کرے گا ۔ بلکہ جھوٹ بولتے ہوئے اللہ اور قرآن کی قسمیں بھی اٹھا کے گا کہ بی بی ہم فراڈ نہیں ہیں ۔
اچھا۔۔۔
ہاں اور کیا اور ہم بے وقوف لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ دیکھو بھئی اس بندے نے داڑھی رکھی ہوئی ہے قسمیں اٹھا رہا ہے تو یہ فراڈ کیوں کرے گا،  لیکن یہ یاد رکھو سب سے زیادہ قسمیں اٹھانے والا ہی سب سے بڑا دھوکے باز اور فراڈیا ہوتا ہے۔
 اس کے بعد۔۔۔
عادلہ نے تجسس سے پر لہجے میں پوچھا
 اس کے بعد کیا ۔۔۔ اس کے بعد جب اس دوسرے نمبر پر آپ نے پیسے بھیج دیئے پھر وہ آپ کو بتائے گا کہ اچھا جی پہلا مرحلہ طے ہو گیا۔ مبارک ہو ۔ اب آپ اس طرح کریں کہ آپ اس فلانے نمبر پر اس فلانے صاحب کو فون کریں وہاں پر آپ کے انعام کا اگلا مرحلہ انتظار کر رہا ہے۔
 تو۔۔۔۔۔
عادلہ نے بےچینی سے پوچھا
 تو پھر آپ اگلے شکاری کے پاس جاتے ہیں  اور وہ شکاری آپ سے پھر سے 10 یا  15 یا 20 ہزار روپے ایزی پیسہ کے ذریعے بھجوانے کی فرمائش کرے گا۔
 اب جناب آپ کا انعام دوسرے مرحلے میں آ چکا ہے اور آپ کا انتظار ختم۔ہونے کو ہے ۔ آپ کے نام کی پرچی لگ چکی ہے اور ایک مشہور و معروف ٹی وی چینل کا نام لے کر اس کے نیلام گھر کی کہانی سنا کر یہ انعام وہاں سے اپ کے لیئے بھیجا جا رہا ہے اور اس کا لوگو تک استعمال کیا جائے گا اور آپ اس خوشی میں کہ اس کا لوگو کوئی اور کیوں یوز کرے گا آپ بے وقوف بن کر پھر اس کی ایک میٹھی کہانی میں اس کو 10،  15 ہزار روپے بھجوا دیتے ہیں۔
 اس طرح وہ چار پانچ لوگ مل کر کم سے کم از کم ایک لاکھ روپے تو آپ سے نکلوا ہی لیتے ہیں،
   تو پھر جب آپ کو خطرے کا احساس ہوتا ہے کہ آپ اس دلدل میں ڈوبتے چلے جا رہے ہیں اور آپ محتاط ہونے لگتے ہیں۔
 تب تک وہ آپ کو اچھی والی چپت لگا چکے ہوتے ہیں۔
 آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا۔۔
عادلہ نے بے دھڑک پوچھ ہی لیا 
 ارے نہیں یار میں نے پہلے ہی مرحلے میں اسے سمجھ لیا کہ یہ میرے ساتھ دھوکہ ہونے کی کہانی شروع ہو گئی ہے۔
 پھر آپ نے کیا کیا
 میں نے اس دوسرے والے کو کہا کہ بھائی سیدھی سی بات ہے ۔ 
اس انعام کے لیے کتنے پیسے دے کر مجھے وصولی کرنی ہوگی۔۔
 اس نے کہا 
کچھ نہیں میم اتنا سب کچھ نہیں ہے جناب ۔
یہ بیس ہزار روپے بس اس وقت دیں گے۔ تو ساتھ ہی آپ کی اگلے مرحلے کی آپ کی پرچی لگ جائے گی۔
 انعام آپ تک پہنچا دیا جائے گا۔
 میں نے کہا میرے بھائی تو ایسا کر کہ یہ بیس ہزار یا 40 ہزار بلکہ تو ایک دو تین لاکھ روپے اس میں سے نکال لے جو بھی تم سب لوگوں کے آپس کا کمیشن ہے،  بانٹ لو اور میرا انعام مجھے بھجوا دو ۔
جیسے ہی میرا انعام ملتا ہے اس سے پہلے پہلے تم لوگ اپنی رقم کٹوا لو۔
 میری اب بات سن کر وہ بدک گیا اور بولا ارے نہیں نہیں میڈم ایسے نہیں ہوتا ۔ 
یہاں  پہلے پیمنٹ کرنی پڑتی ہے تب یہ کرنا پڑتا ہے تب وہ کرنا پڑتا ہے تب جا کر یہ انعام اپ تک پہنچتا ہے۔
 اس کے شروع کے مرحلے ہوتے ہیں۔۔ 
میں نے کہا
او بھائی مجھے الو مت بنا ۔ یہ ڈرامہ کہیں اور کرنا ۔ اگر یہ لاٹری میں نے خریدی ہی نہیں اور میرے نام سے  نکل سکتی ہے نا تو پھر یہ پہلے ایڈوانس میں پیمنٹ بھی ہو سکتی ہے۔
 ایڈوانس میں اپنا خرچہ نکال کر پیمنٹ کٹوا کر میری رقم اور میرا انعام مجھے بھیج دیں۔
 اور اگر نہیں بھیج سکتا تو بند کرتا ہے فون یا پھر میں کروں پولیس کو کروں فون۔۔۔
 تیرا انعام پتے کا اعلان اور ۔۔۔
جناب پٹخ کر کے فون بند ہو جاتا ہے ۔
اور اس کے بعد اکثر وہ سم تبدیل ہو جاتی ہے۔
 اگر پولیس کا ڈر پڑ جائے تو  پہلے تو وہ نمبر کوئی اٹھائے گا نہیں۔
یا اس بندے کا نمبر بلاک کر دیا جائے گا ۔
جس کے ساتھ وہ ایک بار ہاتھ کر چکے ہیں۔
 لہذا اب دوسرے آدمی کی باری ہوگی کہ وہ یا تو سم تبدیل کر لے گا یا جناب آپ کے نمبر کو بلاک کر دے گا۔
 ہر روز گھر بیٹھے ایسے حرام خور ڈاکو جو روزانہ گھر بیٹھے دوسروں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں ۔
اور لوگ اپنی لالچ کے تحت ڈاکہ ڈلوا رہے ہیں لٹ رہے ہیں 
اف میرے خدا۔۔۔۔
عادلہ کی حیرت انگیز لمبی آہ پر اس نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا اور پوچھا 
عادلہہہہہ 
کیا تم نے بھی کوئی  لالچ میں نقصان تو نہیں کروا لیا؟؟
عادلہ کا رنگ ایک دم سے فق ہو گیا۔
 ارے نہیں نہیں یار ایسی کوئی بات نہیں وہ بس ویسے ہی میرے منہ سے نکلا ۔
کیسے کیسے فراڈ ہوتے ہیں دیکھو نا
 اس نے منہ کو ادھر ادھر کرنا شروع کیا ۔۔
وہ نظریں ملانے سے اجتناب کرنے لگی 
شبینہ نے اسے اپنی طرف دیکھنے کو کہا 
میری طرف  دیکھو اور ٹھیک سے جواب دو
 کیا واقعی سچ؟
 عادلہ جیسے پھنس کر رہ گئی
 یار کیا تم بھی نا ایک دم سے نبض پکڑ لیتی ہو انسان کی۔۔
کیا  بتاؤں
 ہاں یار میرے ساتھ یہ چکر ہو چکا ہے
 پھر کتنے لٹے؟
شبینہ نے ماہرانہ انداز میں سوال کیا۔۔
 50 ہزار ۔۔۔
 اف میرے خدا ۔۔۔
میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میری اپنی دوست،  میرے گھر میں بیٹھا ہوا بندہ ، اتنا بے وقوف ہو سکتا ہے
 تو پانچ ہزار تو تم نے بھی لٹوائے تھے نا
ہاں وہ میں، وہ میں تو,  
شبینہ ہڑبڑا سی گئی
 ہاں لیکن پہلے ہی قدم پر سنبھل بھی تو گئی تھی
 ہاں تو اس وقت میری تم سے بات نہیں ہوئی تھی
 تو کر لیتی نا بات 
کیسے کر لیتی بات
 اتنی بڑی رقم کا سن کر میرے ہاتھ پیر بھول گئے
عادلہ نے شرمندگی سے خجل ہو کر جواب دیا 
 میں نے سوچا چلو آخر لوگوں کی لاٹریاں بھی تو لگتی ہیں نا یار۔۔۔
 لگتی ہیں نا پر کسی پرائز بانڈ پہ لگتی ہیں،
 کسی اور ایسے ٹکٹ پہ لگیں گی جو تم نے خریدا ہوگا ۔
جس میں تم شامل ہو گے لیکن یہاں ٹکٹ خریدے بغیر اگر کوئی تمہیں لاٹریاں دے رہا ہے تو اس پہ مشکوک ہونا تو بنتا ہے نا 
ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔
ہو گئی نا غلطی اب ہم کسی کو سمجھائیں گے تو وہ ہماری بات تھوڑی مانے گا ۔
ہر آدمی اپنے دھکے سے سیکھتا ہے یہی تو مسئلہ ہے۔۔
پھر ان سے بچنے کے لیے کیا کیا جائے۔
 کرنا کیا ہے بھئی لالچ سے دور رہیں۔
 اپنی زندگی میں حلال کمائی پر صبر کرنا اور شکر کرنا سیکھیں ۔
فضول قسم کے شوق پالنے سے پرہیز کریں اور یہ جو عورتیں اپنے آپ کو ہر وقت دکان بنائے رکھنا چاہتی ہیں نا برینڈ برینڈ برینڈ کر کے آدمیوں کو پاگل کیا ہوا ہے انہیں چاہیئے کہ ہوش میں آئیں ۔۔
 جب تک یہ عورتیں ان برینڈوں کے چکر میں رہیں گی اور زیوروں کپڑوں کے لالچ میں اندھی ہوتی رہیں گی۔۔ وہ اس طرح پھر ڈاکوؤں سے  روزانہ خود کو لٹواتی رہیں گی اور خود نہیں لٹیں گی تو اپنے میاؤں کو لٹواتی رہیں گی۔
 وہ بھی اسی لالچ میں یہ جواء کھیلتے رہیں گے۔
 لو جی یہ دیکھو پھر سے گھنٹی بج رہی ہے 
 ہیلو کون ؟
جی میڈم آپ کا لاٹری میں انعام لگا ہے۔ آپ اس نمبر پر بات کیجئے۔۔۔
 لو جی ہو گیا شروع ڈرامہ
 اس نے فون فورا سے بند کر دیا 
                  ۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعرات، 18 جولائی، 2024

* عجب ‏بات ‏/ ‏اردو شاعری۔ اور وہ چلا گیا ‏

  
عجب بات 

جس کے بغیر جینا تصور محال تھا 
اسکے بغیر خوش ہوں عجب بات ہے  لوگو

کتنی  طویل کتنی ہو صبر آزما مگر 
کٹ جائیگی کہ رات تو ہے رات دوستو

کوئی بڑائی زیب نہ دے ہم پہ دوستو
سب سے بڑی تو ایک وہی ذات دوستو

مجھکو میرے عدو سے بہت دور کر 
دیا
رحمت لگائے بیٹھے میرے گھات دوستو 

عمروں کی نیکیوں کا صلہ اس طرح ملا
  دکھلائی دشمنوں کی اصل ذات دوستو 

احسان فراموش کے چھینٹوں س بچائے
بدبخت کی زبان کی برسات دوستو
۔۔۔۔


 اسے بھول کر میں خوش ہوں عجب بات ہو گئی

* کبھی برسوں پہلے / اردو شاعری۔اور وہ چلا گیا


کبھی برسوں پہلے 
کلام:
(ممتازملک۔پیرس)


سلسلہ پھر وہیں یادوں کا جڑا ہے میری
جس جگہ ٹوٹ گیا تھا کبھی برسوں پہلے

اب بھی خوشبو ہے میرے ہاتھ میں اس آنچل کی
 ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا کبھی برسوں پہلے

مجھ کو زمزم سا مقدس ہے تیرے ہاتھوں جو
اک گھڑا پھوٹ گیا تھا کبھی برسوں پہلے

رہزنی بھی نہ تیری بھول سکے ہیں اب تک
میری ہر یادکوجو لوٹ گیا تھا کبھی برسوں پہلے

کتنے نادان ہو کیوں سچ کی ہے امید اس سے
بول کے جھوٹ گیا تھا کبھی برسوں پہلے

پرسش غم کے نہ انداز سکھا تو مجھکو
ضبط ممتاز یہاں ٹوٹ گیا تھا کبھی برسوں پہلے
          ●●●





* سن محرم ميرے ۔ اردو شاعری۔ اور وہ چلا گیا



سُن محرم ميرے 


سُن محرم ميرے آج زرا
تو ركھ لے ميری لاج زرا

نہ رول مجهے مطلب كے لئے
تو بن جا صحيح سرتاج زرا

سن باتيں جاہل لوگوں کی
نه مجهکو کر محتاج زرا

یه دنیا اڑیل ٹٹو ہے
نه سمجه انہیں الحاج زرا

گر میری نظر میں رہنا ہے
تک چهوڑ کے جهوٹا سماج ذرا

کوئی آنکه نہ مجھ پر اٹھ پائے
کر غیرت کا اندراج زرا

ممتاز نه جس میں ره پائے
کس کام محل یه تاج زرا
●●●

* بدنامی ۔ اردو شاعری۔ اور وہ چلا گیا



 بدنامی

نتیجہ محض بدنامی
 محبت کے سفر کا

جہاں حرمت نہیں ترجیح اعلی
وہاں شکوہ ہو کیسے دربدر کا

جڑیں سوکھی ہوئیں  جب 
درختوں سے گلہ کیا بے ثمر کا

تمناؤں کے دامن سے لپٹ کر
 گلہ کرتے نہیں بے بال و پر کا

علاج اب کیجیئے ممتاز اس کا 
تباہی خواب ہے اس بد نظر کا 
             
""""""

* کیا بات ہے/ اردو شاعری ۔ اور وہ چلا گیا


کیا بات ہے

چاروں جانب ہی بکھری خرافات ہے 
 کچھ تحمل کرو ایسی کیا بات ہے

آزمائش سے گھبرانا مت سوچ کر
کچھ تمہارے لیئے اسمیں سوغات ہے 

اسکے اثرات ہی یہ بتا پائینگے
اک ادھوری  سی تشنہ ملاقات ہے

تو دعاؤں سے بیزار سی روح اور 
میرے حصے میں آئی مناجات ہے

رات کے بعد ممتاز  دن  آئیگا
سوچ نہ دن کے آگے محض رات ہے 
۔۔۔۔۔۔۔۔

منگل، 16 جولائی، 2024

* جاتے ہیں / اردو شاعری ۔ اور وہ چلا گیا


جاتے ہیں 

روکتے رہتے ہیں اشکوں کو ہر اک روز مگر آوارہ
جانے کس وقت یہ آنکھوں سے نکل جاتے ہیں 

چاہ جینے کی  عجب شے ہے بڑی شدت سے 
بھول کر ساری جدائیاں یہ سنبھل جاتے ہیں 

ویسے پتھر کی ہی مورت یہ نظر آتے ہیں 
درد کی آنچ جو ملتی ہے پگھل جاتے ہیں 

زندگی یونہی لٹائی نہ گنوائی ممتاز
ہم مزاجوں کے تعاقب میں مچل جاتے ہیں 

۔۔۔۔۔۔۔


تبصرہ ۔ فیاض وردگ ۔ کویت


ممتازملک کے کلام 
نینوں کے در وا جو کر دے
پر کویت سے معروف شاعر فیاض وردگ صاحب کا خوبصورت تبصرہ
                      ۔۔۔۔۔۔

واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ واہ بہت خوب زبردست یہی دل کی گہرائیوں سے دل کی دھڑکنوں کی صدا ھے اسی شاعری کا دیوانہ ھوں یہی شاعری نزول کی شاعری ھے یہی شاعری داخلی کشمکش کی آواز ھے جو نینوں کو گویائی دیتی ھے آبرو کو رومز عشق کا درس دیتی ھے جس کے دھڑکنے سے موسیقی کی لہریں ابھرتی ہیں آبشار نغموں کی وادیوں میں لے جا کر سحرانگیزی  کردیتی ھے ساز اور آواز کی سنگت سے دلوں کو فتح کرتی ھے سماعتوں میں شہد گھولتی ھے نینوں کو مخمور کر دیتی ھے تن بدن میں سلگتی ھوئی آگ کو 
 🔥 شعلوں میں بدل دیتی ھے اور انگڑائیوں کو رقص کا ہنر سکھاتی ھے ۔۔اسی طرز کوجاری رکھیئے ۔
میری شام کو سحر انگیز کرنے کے لئے شکریہ حضور سلامتی
                       ۔۔۔۔۔۔۔

* جنوں ہے ۔ اردو شاعری۔ اور وہ چلا گیا


جنوں ہے


عجیب وحشت عجب جنوں ہے
 چہار جانب میرے سکوں ہے

حقیقتوں کو جو مات دیدے
یہ بجھتی آنکھوں کا وہ فسوں ہے

ہے کچھ تردد قبولت میں
جو فیصلہ ایسے گومکوں ہے

ملحوظ رکھو مثال انکی
  بلندیوں پر جو سرنگوں ہے

نہیں ہے ممتاز فرق آساں
کہاں پہ رنگ اور کہاں پہ خوں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔



* مطلب پرست ۔ اردو شاعری۔ اور وہ چلا گیا


 مطلب پرست


یہ مطلب پرستوں کی دنیا ہے پیارے
یہاں زندگی کون ہنس کے گزارے

یہاں پرخوشی میں تو ہنستے ہیں سارے
مگر ساتھ روتے نہیں ہیں ہمارے

نہ بھوکے کو دیتا ہےکوئی یہاں پر
مگر کھانے والوں کے چھینیں سہارے 

 نہین ساتھ دیتے جوناکامیوں میں  
مگر کامیابی میں جلتے شرارے 

گروں کو اٹھانا نہیں سیکھتے اور 
بلندی سے لا کر گرائیں بیچارے

ہے ذات مقدس سے نسبت کا دعوی
مگرچیلے شیطان کے ہیں یہ سارے

بےمطلب کسی بات میں یہ کیوں آئیں 
جواب انکو مل جائیں گر کچھ کرارے

نہ دین و دھرم میں کبھی مشتعل ہوں 
کہیں اور جا کر جلائیں حرارے

تعجب ہے ممتاز میں نے نہ سیکھا 
جہاں پر ہو مطلب وہیں دل بچھا رے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

* سجاوٹ مولا/ اردو شاعری۔ اور وہ چلا گیا


سجاوٹ مولا
کلام:
(ممتازملک۔پیرس)


یوں تو دلدار ہے دنیا کی سجاوٹ مولا
لوگ اخلاص میں کرتے ہیں ملاوٹ مولا 

ہم یقیں کس کا کریں کس کو حقیقت مانیں 
ان کا زہریلا تببسم یا لگاوٹ مولا 

خاک میں جس نے ملایا کئی تہذیبوں کو
ہے وہی ظلم جو ہے وجہء گراوٹ مولا

ہو تیرا حکم تو سستا لیں گھڑی بھر کو کہیں 
زندگی بھر کی اتر جائے تھکاوٹ مولا

سارے رشتوں سے عجب باس ہے آتی جیسے
سیم نے کھا لیا ہو ایسی گلاوٹ مولا

ہم نے ممتاز جھکایا نہیں سر حق جیسا
کیوں دعاوں کو یوں پیش آتی رکاوٹ مولا

●●●


* ◇خزاؤں میں / اردو شاعری/ اور وہ چلا گیا



                                                                                                            
      خزاوں میں 
                

رنگ پوشیدہ نہیں صرف بہاروں میں کہیں     
دیکھنے والے نظر ڈال تو خزاؤں میں 
                   
دھوپ میں بهی بڑی لذت ہے جو محسوس کرو
کیوں سکوں نام ہے وابستہ صرف چھاؤں میں
                           
شہر والوں کی ترقی کا بهلے کیا کہنا
وہ بهی خوشحال جو رہتا ہے میرے گاؤں میں
                   
منزلوں تک دے میرا ساته مجهے کیا ہے بری
ایک سستی سی جو چپل ہے میرے پاؤں میں
       
ماں بہت جلد ہمیں چھوڑ گئی تهی لیکن
اس کی سب دوست ہیں شامل میری خالاؤں میں

جیسے جیسے ہیں بڑھائے قدم عہدوں کی طرف
اک عجب سا ہے تکلف تیری اداؤں میں

کیا کوئی ذکر کرے گا یہاں نادانوں کا
ہم نے دیکهے بڑے جھگڑے یہاں داناؤں  میں

بات آسانی سے ہر بار بگاڑے کوئی
ناامیدی سی چھلکتی ہے ان آشائوں میں 

دل کو ممتاز ہے دھڑکا سا خدا خیر کرے
کتنی گھمبیر سی خاموشی ہے فضاؤں میں
●●●




* ڈھم ڈھما ڈھم/ اردو شاعری۔ اور وہ چلا گیا


ڈھم ڈھما ڈھم


زندگی ڈھول ہے پیٹے جا اسے، ڈھم ڈھما ڈھم
 زندگی ڈھول ہے ڈھول ہے، جی ڈھم ڈھما ڈھم 

ہم جو گرتے نہیں، ہے اس کی  وجہ بھی کوئی
ورنہ کہتے ہیں زمیں، گول ہے جی ڈھم ڈھما ڈھم 

اتنے لوگوں کو جہاں سے ہے ،گزرتے دیکھا 
سب نے بیکار کہا زندگی، انمول ہے جی ڈھم ڈھما ڈھم 

یہ کہیں کم تو کہیں، حد سے  زیادہ ہے جناب
اک عجب سا ہی مول تول ہے ،جی ڈھم ڈھما ڈھم 

نام ممتاز خدا کا ، مگر ایمان نہیں 
کیسا مشکوک سا ، ماحول ہے جی ڈھم ڈھما ڈھم
●●●

* یہ دنیا اب پرانی ہو گئی ہے ۔ اردو شاعری۔ مصرع طرح۔ اور وہ چلا گیا

پرانی ہو گئی ہے

جہاں کوئی نیا آباد کر لیں 
یہ دنیا اب پرانی ہو گئی ہے

میرے دل کا ہے یہ ناسور اب تو
میری آنکھوں کا پانی ہو گئی ہے

عجب پر سوز سی یہ داستاں ہے
اک المیہ  کہانی ہو گئی ہے 

امیدوں کا ہے یہ شہر خموشاں
محض عبرت نشانی ہو گئی ہے

نہیں دم خم وہ انداز زیبائش 
بہت بوڑھی جوانی ہو گئی ہے

نہ دیکھا جائے عالم بے بسی کا 
 نتیجہ کہ سیانی ہو گئی ہے

کوئی ممتاز مجھکو بھی خبر دے
 سہانی زندگانی ہو گئی ہے 
                 ●●●                    

شاعری / /مدت ہوئ عورت ہوۓ/ ممتاز قلم / سچ تو یہ ہے/ اے شہہ محترم/ سراب دنیا/ نظمیں/ پنجابی کلام/