لہجے کی کاٹ
افسانہ۔
ممتازملک
پیرس فرانس
ہسپتال کے بستر پر اپنی آخری سانسیں لیتی ہوئی ایمان نے اپنے باپ عمیر احمد سے بات کرنے کی خواہش کی۔
اس نے بڑی بےچارگی سے اپنے باپ کی جانب دیکھتے ہوئے مسکین سے لہجے میں کہا
ابا ایک بات کہوں اگر آپ کو برا نہ لگے تو ۔۔۔۔
ہاں ہاں کہو
انہوں نے مہان پن کا ایک اظہار کیا
ابا آپ بات کرتے وقت ایک لمحے کے لیئے سوچ لیا کیجیئے پلیز ۔۔ آپ کو پتہ ہی نہیں چلتا آپ ایک ہی بار میں ایک ہی جملے میں سامنے والے کے دل کے کتنے ٹکڑے کر دیتے ہیں ۔
عمیر احمد کے کان کھڑے ہو گئے ایک لمحے کو جیسے وہ ساکت سے ہو گئے
حیران ہی رہ گئے اس کے اس جملے پر
کیا مطلب
انہوں نے چونک کر پوچھا
مطلب بابا آپ باتوں کے اس ذخیرے پر غور نہیں کرتے جو آپ سامنے والے پر برسا دیتے ہیں۔ آپ کو اندازہ ہی نہیں ہوتا، کہ آپ کی بات کی کاٹ سے سامنے والے پر کیا گزر گئی۔ بس آپ ایک منٹ کے لیئے ، ایک لمحے کے لیئے اپنی زبان پر تھوڑی سی گرفت کر کے سوچ لیا کیجیئے کہ آپ کے الفاظ کا سامنے والے کے دل پر کیا اثر پڑے گا ۔۔
اس سے کیا ہوگا مجھے جو کہنا میں تو وہی کہوں گا
عمیر احمد نے مضبوط لہجے سے سختی سے جواب دیا
مجھے نہیں پتا ابا، اس سے کیا ہوگا ۔۔
مجھے نہیں پتا اس سے کیا ہوگا
اس نے بڑی رسانیت سے مسکین سے لہجے سے جواب دیا
بس یہ ضرور ہوگا ابا کہ میں آپ کو قیامت کے دن ان لوگوں میں نہیں دیکھنا چاہتی جن کو زبان کی گرفت پر سزاوار کیا جائے گا۔ مجھے خوشی ہوگی۔ میں آپ کو زبان کی نرمی کے ساتھ جنت کے اونچے درجے پر دیکھنا چاہتی ہوں
پلیز اباااا
اس کی آواز ٹوٹ گئی
ایمان کے بہتے ہوئے آنسو اور اس کے درخواست بھرے لہجے نے جیسے عمیر احمد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا
ابا میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں ، میں آپ کو اچھی نہیں لگتی، کوئی بات نہیں۔ لیکن آپ میرے ابا ہیں۔ آپ مجھے بہت اچھے لگتے ہیں ۔ میں چاہتی ہوں آپ کے اچھے کام، آپ کا اچھا پلڑا ہمیشہ بھاری رہے۔ کوئی کبھی آپ کی کسی برائی کو ظاہر نہ کر پائے۔
میری بات بری لگی ہو تو مجھے معاف کر دیجیئے گا۔۔۔۔۔
یہ کہتے کہتے اس کا سر ایک جانب ڈھلک گیا
وہ ایمان رخصت ہو چکی تھی جس کے سر پر عمیر احمد نے کبھی پیار سے محبت بھرا ہاتھ نہ رکھا۔ کبھی میٹھی زبان میں اسے بیٹی کہہ کر نہیں پکارا ۔
لیکن وہ جاتے جاتے بھی اس کی مار کی بات کو پولیس سے پردے میں رکھ گئی۔
ورنہ جس وحشیانہ انداز میں اس نے اسے صرف اس بات پر مارا کہ میرے آواز دینے پر تم فورا میرے سامنے کیوں نہیں آئی۔ کہاں مر گئی تھی۔ کیا گل کھلا رہی تھی۔۔۔
وہ مغلظات بکتا چلا گیا۔۔
اس کے ہاتھ میں جو چیز لگی اس نے اپنی بیٹی پر دے ماری۔
یہاں تک کہ وہ زمین پر گر گئی۔
جب تک اس کا مردانہ جوش ٹھنڈا ہوتا۔ وہ باپ بن کر اس بیٹی کو دیکھتا۔
تب تک وہ بے سدھ ہو چکی تھی ۔
محلے والے شور سن کر آئے ۔
ماں نے اپنی بیٹی کو دیکھا تو دیوانہ وار اس کی جانب لپکی۔
اسے اٹھا کر ہسپتال لے کر گئی۔
پولیس آئی
سوال جواب ہوئے۔
لیکن اس نے ہوش میں آنے کے بعد بھی اس باپ کا نام نہیں لیا۔
جو پاؤں کی جانب کھڑا تھا ڈری سہمی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
کیا ہوا تھا؟ بولو بیٹا۔۔۔کس نے تمہیں مارا ۔ کس نے تمہارا یہ حال کیا؟
لیکن اس نے اپنے باپ کا نام نہیں لیا ۔
بس ایک ہی جواب ۔۔۔
پتہ نہیں کون تھا ؟
بیٹا بتاؤ کون تھا جس نے تمہیں اتنی بری طرح سے مارا ۔ نام لو۔
پتہ نہیں سر وہ کون تھا میں نہیں جانتی
پولیس جانتی تھی وہ جھوٹ بول رہی ہے لیکن وہ اپنی مرضی کا بیان نہیں دلوا سکتے تھے۔
عمیر احمد جاتی جاتی تمہاری بیٹی تمہیں اپنی موت کے بدلے پھر بھی تحفے میں نہ صرف تمہیں زندگی دے گئی بلکہ ایک اچھا سبق بھی دے گئی۔
کہ اپنے لہجے کو نرم کرو۔ اپنے دل کو نرم کرو تاکہ تمہیں سامنے والے کی تکلیف سمجھ میں آ سکے
۔۔۔۔۔۔۔