ملا ہے درد مجھے
ملا ہے درد مجھے جب بھی تُو قریب ہوا
ہر اک کو کب یہ تیرا پیار یوں نصیب ہوا
نوازشیں جو تیری دیکھیں مسکرانے لگے
کہ جل کے سایہ بھی میرا، میرا رقیب ہوا
دھنک کے رنگ بکھیریں ہیں میرے چاروں طرف
یہ اختیار دیا چن لے جو حبیب ہوا
ہر ایک زخم پہ رکھا ہے پھول چاہت سے
مہک اٹھی ہے میری روح کیا طبیب ہوا
کُھلا تھا چہرہ جو ممتاز ہم نہ جان سکے
عجب ہے رسم شناسائی جو نقیب ہوا
۔۔۔۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں