اور ہمارے جوان بجائے اپنے لیڈر کو مت دینے کے اس لیڈر کی جانب سے ان کو سمجھانے والوں کو ہی گالیاں دے دے کر اپنا شعور اجاگر کر رہے ہیں . ظاہر ہے ہم جس کے پیچھے چلتے ہیں تو شاید ہم اپنی آنکھیں اپنا دماغ اور اپنا ضمیر سب کچھ اس کے پاس گروی رکھ دیتے ہیں . اور اسی کی زبان بھی بولنے لگتے ہیں . ان جیسے ناپختہ ذہن کے لوگوں کے ہاتھ میں حکومت کی باگ دوڑ دینا کیا بندر کے ہاتھ میں استرا دینے جیسا تو نہیں ہے ؟
ایک طرف ہندو دہشتگرد وزیراعظم اپنی دہشتگرد فوج کو گجرات کے بعد کشمیریوں کے خون کی ہولی کھلا رہا ہے . دوسری جانب دنیا کو بے وقوف بنانے کے لیئے پاکستان کی کشمیر پر اٹھائی ہوئی موثر آواز کو دبانے کے لیئے جنگ کا ہوا کھڑا کر رہا ہے . اور دنیا کی توجہ کو بھٹکا رہا ہے ایسے میں ہر پاکستانی اور کشمیری کا فرض ہے کہ وہ پاکستان میں ہے یا دنیا کے کسی بھی کونے میں بھرپور انداز میں کشمیر کاز اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو دنیا پر آشکارہ کرے . بڑی بڑی ریلیاں دنیا کے ہر ملک میں منظم انداز میں نکالی جائیں . مقامی لوگوں کو بھارت کی بربریت سے آگاہ کیا جائے .
اس وقت اسے اپنے ملک کی بقاء کی فکر ہوتی ہے اور وہ اپنے ووٹرز یا سپوٹرز کو ملک پر آئے خطرات سے آگاہ اور بچاؤ اور حب الوطنی کے جذبے کو بیدار کرنے والے اقدامات اٹھاتا ہے . نہ کہ ترجیحات کی ناکامی پر خود ہی اپنی طاقت کو توڑنے والے حربے آزماتا ہے .
ہم لوگوں نے سڑکوں پر سفر کرنا ہے میٹرو اور گاڑیاں ہماری ضرورت ہیں . ہم اپنے نمائندوں سے امید کرتے ہیں کہ وہ بجٹ کا پیسہ اس کام پر لگائیں . نہ کہ دبئی کے بینکوں میں جمع کر کے ڈبل ہونے کا انتظار کریں . اور اپنے علاقے میں آپ کوچیہ بھی نہ سمجھ آئے کہ سال بھر کا بجٹ کا ایک تہائی پیسہ بھی کہاں استعمال کرنا ہے . وہ کون سی کمیٹی اس پیسے سے آپ کے لیڈر نے ڈالی ہے کہ آئندہ انتخابات سر پر آگئے ہیں اور وہ نکل کر ہی نہیں دے رہی .










