زچگی چھٹیاں
تحریر:
ممتازملک
پیرس
سنا ہے ہمارے ہاں ایک خاتون کو زچگی کی چھٹیاں دینے کے لیئے اجازت نہ ملی تو اس نے اس کے خلاف درخواست دی اور جواب میں ایک فیصلہ کیا گیا ۔ جہاں وہ خاتون ملازمت کرتی تھی اس ادارے کو بھاری جرمانہ ہوا وہ بھی لاکھوں میں جبکہ زچگی کی چھٹیوں میں نہ صرف ماں کو چھٹی دی جائے گی بلکہ بچے کے باپ کو بھی چھٹیاں دینے کا قانون بنانے کے لیے تجویز پیش کر دی گئی ہے، یا شاید حکم دے دیا گیا ہے ۔ یہ حکم دوسرے ممالک میں بہت کامیابی سے چلتا ہے۔ خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک میں امریکہ میں یورپ میں پیرنٹنگ لیوز عام طور پر دی جاتی ہیں۔ کیونکہ وہاں لوگ مل جل کر گھروں کا کام کرتے ہیں ۔ گھر باہر دونوں دیکھتے ہیں اس لیئے دونوں گھر کی ہر ایک بات میں برابر کا حصے لے رہے ہوتے ہیں ۔ بچے کی دیکھ بھال کے لیئے بھی وہاں صرف ماں ہی فیڈنگ کرے گی، ماں ہی اس کے نیپی بدلے گی، اور ماں ہی اس کے لیئے جاگ جاگ کر اسے تھپتھپائے گی ایسا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ ماں اور باپ دونوں اس بچے کو دنیا میں لے کر آئے ہیں، تو دونوں اس بچے کی پرورش کرنے کی ذمہ دار ہیں اور دونوں اس میں برابر کا حصہ خوشی خوشی لیتے بھی ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں معاملات کچھ مختلف ہیں اس لیئے اگر ہم اپنے معاشرے کو دیکھیں یہاں کے معاملات کو دیکھیں تو ہمیں یہ قانون کہیں تو بہت اچھا نظر اتا ہے لیکن کہیں کہیں پر اس کے ساتھ بہت سارے خدشات بھی وابستہ ہیں۔ ایک پل کو سوچیے وہ لوگ
جنہوں نے دو تین بچے پیدا کرنے ہیں انکے لیئے تو یہ قانون بہترین ہے، اگر شوہر گھر پر اپنی بیوی پر بوجھ اور سوکن بننے کا کردار ادا نہ کرے تو ۔ لیکن اگر اس نے گھر پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیوی کو لہو تھکوانا ہے تو اس صورت میں یہ چھٹی اس عورت کے لیئے کالے پانی کی سزا سے ہر گز کم نہیں ہو گی۔ اور جو مرتے دم تک دس دس بارہ بارہ بچے پیدا کرنے والی بکری بیویاں ہیں اس کے شوہر تو پھر دفتر کا راشن اور تنخواہ دونوں کے دشمن عظیم ثابت ہونگے ۔ لہذا ہمارے ہاں اس معاملے میں ہر فائل اور ہر کیس کو الگ سے دیکھتے ہوئے اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے ۔کیونکہ اگر یہ حکم نافذ کر دیا گیا تو اس کا اثر پورے ملک پر پڑے گا اور اس ملک میں رہنے والے ہر محکمے اور ادارے پر پڑے گا ۔ پھر وہ چاہے سرکاری ملازم ہو یا پرائیویٹ اس کی سب سے پہلی تکرار اسی بات پر ہوا کرے گی کہ جی میرے ہاں میری بیوی کے ہاں زچگی ہونے والی ہے ۔ لہذا اسے بھی چھٹی دی جائے اور وہ کسی قیمت پر اپنے گھر میں اپنی بیوی کے لیے آسانی دینے والا نہیں ہوتا۔ اگر آپ اپ اوپر کے طبقات سے نیچے کی جانب آتے ہیں تو دیکھیئے اوپر کی جانب اپر کلاس میں جہاں بمشکل کسی کے ہاں ایک یا دو ہی بچے ہوتے ہیں انہیں اگر یہ آسانی مل بھی گئی تو شاید وہ اس کا بہترین استعمال کر بھی لیں۔ لیکن جیسے جیسے نیچے اوسط اور پھر نچلی سطح پر آئیں گے۔۔ جیسے ہمارے ہاں کام والیوں کے لیئے ، ہمارے گھروں میں کام کرنے والی خواتین آتی ہیں، ہیلپرز آتی ہیں یا اس سے اوپر چلے جائیں کلرک کے عہدے تک چلے جائیں ہمارے دوسرے محکمے جہاں پہ ان کے نائب قاصدین ہوتے ہیں یا چوکیدار ہوتے ہیں یا باورچی ہوتے ہیں یا ایسے ہی دوسرے مددگار۔۔ جتنے بھی عملے کے لوگ ہوں گے یہ سب کے سب تو ہر سال چھٹیوں پہ جایا کریں گے اور ہر سال ان کی چھٹیاں اتنی ہوا کریں گی کہ آپ کی سوچ سے بھی باہر ہیں کیونکہ ان کے ہاں تو جب تک عورت مر نہیں جاتی اس وقت تک وہ بچے پیدا کرتی رہتی ہے اور اسی بہانے ان کو ایک نیا ہتھیار ہاتھ آ جائے گا اپنے مالکین کو تنگ کرنے کے لیئے ۔ اور چھٹیاں لے کر غائب ہونے کے لیئے ۔ پھر نہ صرف چھٹیاں ہوں گی بلکہ ان کے ساتھ تنخواہیں بھی ادا کی جائیں گی اور یوں ایک نیا فساد شروع ہو جائے گا پوری معاشرے کے اندر۔ اس بات پر بہت ہی زیادہ سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
کیونکہ ہماری قوم الا ماشاءاللہ بیٹھ کر کھانے کے جگاڑ لگانے میں اپنی مثال آپ ہے۔
(تحریر :ممتاز ملک۔ پیرس فرانس )
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں