( 30 سال شادی پر اختر شیخ صاحب کے نام)
سنا ہے جب کسی کی ذات سے کوئی بھی ڈر آئے
ہماری یاد کے جگنو تیری آنکھوں میں در آئے
ہماری زندگی تھی اس پہ اپنا حق تھا لیکن کیوں
کہاں پر تم ہماری زندگی کر کے بسر آئے
ابھی پھر سے نئی منزل نہیں ہے جستجو اپنی
نہ جانے کتنی دنیاؤں کا ہم کر کے سفر آئے
تمناؤں سے رخصت ہو تو کچھ اقدام ہوں عملی
سمجھ جائیں گے دنیا کو سمجھ میں یہ اگر آئے
نہ گھر اتنے بڑے کرنا کہ کھو جائیں نگاہوں سے
بس اتنا ہو کہ ہم تم ایک دوجے کو نظر آئیں
نہ تھی کچھ جان نہ پہچان جو تھی وہ محض قسمت
جہاں اک چھوڑ کے اپنا جو ہم تیرے نگر آئے
بہت ممتاز گزری ہے ہمارے ساتھ اختر ہیں
سبھی کو رد کیا جتنے جہاں بھی بدنظر آئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں